بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 103 — باب: غسل جنابت کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: طہارت کے احکام و مسائل باب: غسل جنابت کا بیان۔ حدیث 103
هَنَّادٌ ، وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشِ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، مَيْمُونَةَ
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: " وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا، فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَأَكْفَأَ الْإِنَاءَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَأَفَاضَ عَلَى فَرْجِهِ، ثُمَّ دَلَكَ بِيَدِهِ الْحَائِطَ أَوِ الْأَرْضَ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَجَابِرٍ , وَأَبِي سَعِيدٍ , وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے لیے نہانے کا پانی رکھا، آپ نے غسل جنابت کیا، تو برتن کو اپنے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ پر جھکایا اور اپنے پہونچے دھوئے، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور شرمگاہ پر پانی بہایا، پھر اپنا ہاتھ دیوار یا زمین پر رگڑا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنا چہرہ دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر تین مرتبہ سر پر پانی بہایا، پھر پورے جسم پر پانی بہایا، پھر وہاں سے پرے ہٹ کر اپنے پاؤں دھوئے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ام سلمہ، جابر، ابوسعید جبیر بن مطعم اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 103]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الغسل 1 (249)، و5 (257)، و7 (259)، و8 (260)، و10 (265)، و11 (266)، و16 (274)، و18 (276)، و21 (281)، صحیح مسلم/الحیض 9 (317)، سنن ابی داود/ الطہارة 98 (245)، سنن النسائی/الطہارة 161 (254)، والغسل 7 (408)، و14 (418)، و22 (428)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 94 (573)، (تحفة الأشراف: 18064)، مسند احمد (6/330، 336)، سنن الدارمی/الطہارة 39 (738)، و66 (774) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (573)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (573)
← پچھلی حدیث (102) باب پر واپس اگلی حدیث (104) →