بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 1014 — باب: جنازے کے پیچھے سواری پر چلنے کی رخصت کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل باب: جنازے کے پیچھے سواری پر چلنے کی رخصت کا بیان۔ حدیث 1014
حدیث نمبر: 1014 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْهَاشِمِيُّ ، أَبُو قُتَيْبَةَ ، الْجَرَّاحِ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، عَنْ الْجَرَّاحِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّبَعَ جَنَازَةَ أَبِي الدَّحْدَاحِ مَاشِيًا وَرَجَعَ عَلَى فَرَسٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابودحداح کے جنازہ کے پیچھے پیدل گئے اور گھوڑے پر سوار ہو کر لوٹے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1014]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2143) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ جنازے سے واپسی میں سوار ہو کر واپس آنا جائز ہے، علماء اسے بلا کراہت جائز قرار دیتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح انظر ما قبله (1013)
الحكم: صحيح انظر ما قبله (1013)
← پچھلی حدیث (1013) باب پر واپس اگلی حدیث (1015) →