بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 1002 — باب: میت پر (آواز سے) رونے کی کراہت کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل باب: میت پر (آواز سے) رونے کی کراہت کا بیان۔ حدیث 1002
حدیث نمبر: 1002 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ". وَفِي الْبَاب: عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ الْبُكَاءَ عَلَى الْمَيِّتِ، قَالُوا: الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، وَذَهَبُوا إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ، وقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: أَرْجُو إِنْ كَانَ يَنْهَاهُمْ فِي حَيَاتِهِ أَنْ لَا يَكُونَ عَلَيْهِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- عمر رضی الله عنہ کی حدیث صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابن عمر اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- اہل علم کی ایک جماعت نے میت پر رونے کو مکروہ (تحریمی) قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میت کو اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ اور وہ اسی حدیث کی طرف گئے ہیں،
۴- اور ابن مبارک کہتے ہیں: مجھے امید ہے کہ اگر وہ (میت) اپنی زندگی میں لوگوں کو اس سے روکتا رہا ہو تو اس پر اس میں سے کچھ نہیں ہو گا۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1002]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/الجنائز 14 (1851) (تحفة الأشراف: 10527) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الجنائز 32 (1287)، و33 (1290، 1291)، صحیح مسلم/الجنائز 9 (927)، سنن النسائی/الجنائز 14 (1849)، و15 (1854)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 54 (1593)، (تحفة الأشراف: 9031)، مسند احمد (1/26، 36، 47، 50، 51، 54)، من غیر ہذا الوجہ۔و راجع أیضا مسند احمد (6/281)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (1593)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (1593)
← پچھلی حدیث (1001) باب پر واپس اگلی حدیث (1003) →