بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے بلغم آئے تو کیا کرے
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے بلغم آئے تو کیا کرے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1303 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُوسَى، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ إِذَا تَنَخَّعَ بَيْنَ يَدَيِ الْقَوْمِ فَلْيُوَارِ بِكَفَّيْهِ حَتَّى تَقَعَ نُخَاعَتُهُ إِلَى الأَرْضِ، وَإِذَا صَامَ فَلْيَدَّهِنْ، لاَ يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ الصَّوْمِ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب کوئی آدمی لوگوں کے سامنے بلغم نکالے تو اسے چاہیے کہ اسے دونوں ہتھیلیوں سے چھپا لے، یہاں تک کہ اس کا بلغم زمین پر گر جائے۔ اور جب کوئی آدمی روزہ رکھے تو چاہیے کہ تیل لگا لے تاکہ اس پر روزے کا اثر دکھائی نہ دے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 1303]
تخریج الحدیث
«ضعيف الإسناد موقوفًا: أخرجه ابن أبى شيبة: 9755 و البيهقي فى شعب الإيمان: 6902»
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد موقوفًا
الحكم: ضعيف الإسناد موقوفًا