حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا شَيْئًا مَا نُحِبُّ أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهِ وَإِنَّ لَنَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، قَالَ: ”أَوَ قَدْ وَجَدْتُمْ ذَلِكَ؟“ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: ”ذَاكَ صَرِيحُ الإيمَانِ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم اپنے دل میں بسا اوقات ایسے وسوسے پاتے ہیں کہ ہم انہیں زبان پر لانا کسی صورت گوارہ نہیں کرتے، خواہ ہمیں روئے زمین کی ساری دولت مل جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے ایسی بات کو دل میں پایا؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ صریح اور خالص ایمان ہے۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 1284]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه مسلم، كتاب الإيمان: 132/209 و أبوداؤد: 5111»
الحكم: صحيح