بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ادب سکھانا اور شطرنج کھیلنے والوں اور باطل پرستوں کو شہر بدر کرنا
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب ادب سکھانا اور شطرنج کھیلنے والوں اور باطل پرستوں کو شہر بدر کرنا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 1273 الادب المفرد
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا وَجَدَ أَحَدًا مِنْ أَهْلِهِ يَلْعَبُ بِالنَّرْدِ ضَرَبَهُ، وَكَسَرَهَا‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
نافع رحمہ اللIRR سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے خاندان میں سے کسی کو شطرنج کھیلتے دیکھتے تو اسے مارتے اور شطرنج توڑ دیتے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 1273]
تخریج الحدیث
«صحيح الإسناد موقوفًا: أخرجه ابن أبى شيبة: 26151 و البيهقي فى الكبرىٰ: 216/10»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد موقوفًا
الحكم: صحيح الإسناد موقوفًا
حدیث نمبر: 1274 الادب المفرد
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهُ بَلَغَهَا أَنَّ أَهْلَ بَيْتٍ فِي دَارِهَا، كَانُوا سُكَّانًا فِيهَا، عِنْدَهُمْ نَرْدٌ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِمْ‏:‏ لَئِنْ لَمْ تُخْرِجُوهَا لَأُخْرِجَنَّكُمْ مِنْ دَارِي، وَأَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہیں خبر پہنچی ایک اہلِ خانہ جو ان کے گھر (محلہ) میں رہتے ہیں ان کے پاس شطرنج ہے، تو انہوں نے ان کی طرف پیغام بھیجا: اگر تم اسے باہر نہیں نکالو گے تو میں تمہیں ضرور گھر سے نکال دوں گی، نیز انہوں نے اس بات پر شدید ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 1274]
تخریج الحدیث
«حسن الإسناد موقوفًا: أخرجه مالك: 958/2 و ابن أبى الدنيا فى ذم الملاهي: 81 و البيهقي فى الكبرىٰ: 216/10»
قال الشيخ الألباني
حسن الإسناد موقوفًا
الحكم: حسن الإسناد موقوفًا
حدیث نمبر: 1275 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ‏:‏ خَطَبَنَا ابْنُ الزُّبَيْرِ فَقَالَ‏:‏ يَا أَهْلَ مَكَّةَ، بَلَغَنِي عَنْ رِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ يَلْعَبُونَ بِلُعْبَةٍ يُقَالُ لَهَا‏:‏ النَّرْدَشِيرُ، وَكَانَ أَعْسَرَ - قَالَ اللَّهُ‏: ﴿‏إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ‏﴾ [المائدة: 90] ‏، وَإِنِّي أَحْلِفُ بِاللَّهِ‏: لَا أُوتَى بِرَجُلٍ لَعِبَ بِهَا إِلَّا عَاقَبْتُهُ فِي شَعْرِهِ وَبَشَرِهِ، وَأَعْطَيْتُ سَلَبَهُ لِمَنْ أَتَانِي بِهِ‏.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
کلثوم بن جبر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے اہلِ مکہ! مجھے قریش کے کچھ لوگوں کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ ایک کھیل کھیلتے ہیں جسے نردشیر کہا جاتا ہے، اور وہ الٹے ہاتھ سے کھیلا جاتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: بلاشبہ شراب اور جوا (گندے شیطانی کام ہیں)۔ [سورہ المائدہ: 90] اور میں اللہ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ اگر ایسا آدمی میرے پاس لایا گیا جو شطرنج کے ساتھ کھیلا ہو تو میں اس کے جونڈے کھینچوں گا اور چمڑی بھی اتاروں گا اور اس کا سامان اسے دے دوں گا جو اسے لائے گا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 1275]
تخریج الحدیث
«حسن الإسناد موقوفًا: أخرجه ابن أبى الدنيا فى ذم الملاهي: 80 و الآجرى فى تحريم النرد: 33 و البيهقي فى الكبرىٰ: 216/10»
قال الشيخ الألباني
حسن الإسناد موقوفًا
الحكم: حسن الإسناد موقوفًا
حدیث نمبر: 1276 الادب المفرد
حَدَّثَنَا ابْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الْحَنَفِيِّ هُوَ الطَّنَافِسِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي يَعْلَى أَبُو مُرَّةَ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فِي الَّذِي يَلْعَبُ بِالنَّرْدِ قِمَارًا‏:‏ كَالَّذِي يَأْكُلُ لَحْمَ الْخِنْزِيرِ، وَالَّذِي يَلْعَبُ بِهِ مِنْ غَيْرِ الْقِمَارِ كَالَّذِي يَغْمِسُ يَدَهُ فِي دَمِ خِنْزِيرٍ، وَالَّذِي يَجْلِسُ عِنْدَهَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا كَالَّذِي يَنْظُرُ إِلَى لَحْمِ الْخِنْزِيرِ‏.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
يعلى بن مرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ شطرنج کے ساتھ جوا کھیلنے والے کے بارے میں میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: وہ شخص خنزیر کا گوشت کھانے والے کی طرح ہے، اور جو جوئے کے بغیر کھیلے وہ خنزیر کے خون میں ہاتھ ڈبونے والے کی طرح ہے، اور جو اس کے پاس بیٹھ کر دیکھے وہ خنزیر کا گوشت دیکھنے والے کی طرح ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 1276]
تخریج الحدیث
«ضعيف الإسناد موقوفًا»
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد موقوفًا
الحكم: ضعيف الإسناد موقوفًا
حدیث نمبر: 1277 الادب المفرد
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ‏:‏ اللاَّعِبُ بِالْفُصَّيْنِ قِمَارًا كَآكِلِ لَحْمِ الْخِنْزِيرِ، وَاللاَّعِبُ بِهِمَا غَيْرَ قِمَارٍ كَالْغَامِسِ يَدَهُ فِي دَمِ خِنْزِيرٍ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: دو نگینوں کے ساتھ جوا کھیلنے والا سور کا گوشت کھانے والے کی طرح ہے، اور جوئے کے بغیر ان کے ساتھ کھیلنے والا ایسا ہے جیسے وہ خنزیر کے خون میں ہاتھ ڈبونے والا ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 1277]
تخریج الحدیث
«صحيح الإسناد موقوفًا: أخرجه ابن أبى الدنيا فى ذم الملاهي: 76 و عبدالرزاق: 19729 و ابن أبى شيبة: 26154 و ابن الجعد: 3097»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد موقوفًا
الحكم: صحيح الإسناد موقوفًا