بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
گھٹنوں کے بل بیٹھنا
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب گھٹنوں کے بل بیٹھنا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1184 الادب المفرد
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى الْكَلْبِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ السَّاعَةَ، وَذَكَرَ أَنَّ فِيهَا أُمُورًا عِظَامًا، ثُمَّ قَالَ‏: ”مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَ عَنْ شَيْءٍ فَلْيَسْأَلْ عَنْهُ، فَوَاللَّهِ لاَ تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلاَّ أَخْبَرْتُكُمْ مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا“، قَالَ أَنَسٌ‏:‏ فَأَكْثَرَ النَّاسُ الْبُكَاءَ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكْثَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ‏:‏ ”سَلُوا“، فَبَرَكَ عُمَرُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَقَالَ‏:‏ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً، فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ ذَلِكَ عُمَرُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ ”أَوْلَى، أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ، وَأَنَا أُصَلِّي، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی۔ سلام پھیر کر منبر پر تشریف فرما ہوئے اور قیامت کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیان فرمایا کہ اس میں بڑے بڑے حادثات رونما ہوں گے، پھر فرمایا: جو مجھ سے کسی بھی چیز کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے وہ پوچھ لے۔ اللہ کی قسم! جب تک میں اس جگہ موجود ہوں تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی پوچھو گے میں تمہیں بتاؤں گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ بات سن کر بہت روئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم برابر فرماتے رہے: پوچھو جو پوچھنا چاہتے ہو۔ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر عرض کیا: ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہیں۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش ہو گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ حالات قریب ہیں۔ خبردار مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھ پر جنت اور دوزخ اس دیوار کی جانب پیش کی گئی اور میں نماز پڑھ رہا تھا۔ میں نے جس قدر خیر و شر آج دیکھا کبھی نہیں دیکھا۔ [الادب المفرد/كِتَابٌ/حدیث: 1184]
تخریج الحدیث
«حسن صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الاعتصام بالكتاب و السنة: 7294 و مسلم: 2359»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
الحكم: حسن صحيح