بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
”چوپالوں یا تھڑوں“ پر بیٹھنے کا بیان
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب المجالس ”چوپالوں یا تھڑوں“ پر بیٹھنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1149 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمَجَالِسِ بِالصُّعُدَاتِ، فَقَالُوا‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، لَيَشُقُّ عَلَيْنَا الْجُلُوسُ فِي بُيُوتِنَا‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”فَإِنْ جَلَسْتُمْ فَأَعْطُوا الْمَجَالِسَ حَقَّهَا“، قَالُوا‏:‏ وَمَا حَقُّهَا يَا رَسُولَ اللهِ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”إِدْلاَلُ السَّائِلِ، وَرَدُّ السَّلاَمِ، وَغَضُّ الأَبْصَارِ، وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھروں کے سامنے تھڑوں پر بیٹھنے سے منع فرمایا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! گھروں کے اندر بیٹھے رہنا ہمارے لیے باعثِ مشقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارا چارہ نہ ہو تو پھر ان مجلسوں کا حق ادا کرو۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ان کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: راستہ پوچھنے والے کی راہنمائی کرنا، سلام کا جواب دینا، نگاہوں کو پست رکھنا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْمَجَالِسِ/حدیث: 1149]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أبوداؤد، كتاب الأدب: 4816 - الصحيحة: 1561»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1150 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ فِي الطُّرُقَاتِ، قَالُوا‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ أَمَّا إِذْ أَبَيْتُمْ، فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ، قَالُوا‏:‏ وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ يَا رَسُولَ اللهِ‏؟‏ قَالَ‏:‏ غَضُّ الْبَصَرِ، وَكَفُّ الأَذَى، وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: راستوں پر بیٹھنے سے بچو۔ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا ان مجلسوں میں بیٹھنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔ ہم وہاں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اچھا اگر تمہارا اصرار ہے تو پھر راستے کا حق ادا کرو۔ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! راستے کا کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نظر کو بچا کر رکھنا، تکلیف دہ چیز راستے سے ہٹا دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْمَجَالِسِ/حدیث: 1150]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب المظالم: 2465 و مسلم: 2121 و أبوداؤد: 4815»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح