بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
قبلہ رخ ہونے کا بیان
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب المجالس قبلہ رخ ہونے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1137 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ مُنْقِذٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ‏:‏ كَانَ أَكْثَرُ جُلُوسِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَهُوَ مُسْتَقْبِلٌ الْقِبْلَةَ، فَقَرَأَ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ سَجْدَةً بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَسَجَدَ وَسَجَدُوا إِلاَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، فَلَمَّا طَلَعَتِ الشَّمْسُ حَلَّ عَبْدُ اللهِ حَبْوَتَهُ ثُمَّ سَجَدَ وَقَالَ‏:‏ أَلَمْ تَرَ سَجْدَةَ أَصْحَابِكَ‏؟‏ إِنَّهُمْ سَجَدُوا فِي غَيْرِ حِينِ صَلاةٍ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
منقذ بن قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اکثر و بیشتر قبلہ رخ ہو کر بیٹھتے، چنانچہ یزید بن عبداللہ بن قسیط نے طلوعِ شمس کے بعد سورہ سجدہ پڑھی تو سجدہ کیا اور انہوں نے بھی سجدہ کیا سوائے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے۔ پھر جب سورج اچھی طرح طلوع ہو گیا تو انہوں نے اپنی چادر کھولی، پھر سجدہ کیا اور کہا: کیا تم نے اپنے ساتھیوں کا سجدہ دیکھا؟ انہوں نے ایسے وقت میں سجدہ کیا جب نماز کا وقت نہیں تھا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْمَجَالِسِ/حدیث: 1137]
تخریج الحدیث
«ضعيف الإسناد موقوفًا: مصنف ابن أبى شيبة: 16/2 من طرق، و روى مرفوعًا - ضعيف أبى داؤد: 254-ن»
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد موقوفًا
الحكم: ضعيف الإسناد موقوفًا