بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
صبح کس حال میں ہوئی؟ کہنے کا بیان
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب الرسائل صبح کس حال میں ہوئی؟ کہنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1129 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا ابْنُ الْغَسِيلِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ‏:‏ لَمَّا أُصِيبَ أَكْحُلُ سَعْدٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَثَقُلَ، حَوَّلُوهُ عِنْدَ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا‏:‏ رُفَيْدَةُ، وَكَانَتْ تُدَاوِي الْجَرْحَى، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرَّ بِهِ يَقُولُ‏:‏ ”كَيْفَ أَمْسَيْتَ‏؟“‏، وَإِذَا أَصْبَحَ‏:‏ ”كَيْفَ أَصْبَحْتَ‏؟“‏ فَيُخْبِرُهُ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ خندق کے روز جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی رگ کٹ گئی اور ان کی تکلیف زیادہ بڑھ گئی تو انہوں نے انہیں ایک رفیدہ نامی عورت کے پاس منتقل کر دیا جو زخمیوں کا علاج کرتی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب ان کے پاس سے گزرتے تو پوچھتے: تیری شام کس حال میں ہوئی؟ اور صبح حال دریافت کرتے تو پوچھتے: صبح کس حال میں ہوئی؟ تو وہ اپنا حال بتا دیتے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الرَّسَائِلِ‏/حدیث: 1129]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه المصنف فى التاريخ الأوسط: 22/1 و ابن سعد فى الطبقات: 427/3 - أنظر الصحيحة: 1158»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1130 الادب المفرد
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى الْكَلْبِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ‏:‏ وَكَانَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ أَحَدَ الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَقَالَ النَّاسُ‏:‏ يَا أَبَا الْحَسَنِ، كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏؟‏ قَالَ‏:‏ أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللهِ بَارِئًا، قَالَ‏:‏ فَأَخَذَ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بِيَدِهِ، فَقَالَ‏:‏ أَرَأَيْتُكَ‏؟‏ فَأَنْتَ وَاللَّهِ بَعْدَ ثَلاَثٍ عَبْدُ الْعَصَا، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَرَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْفَ يُتَوَفَّى فِي مَرَضِهِ هَذَا، إِنِّي أَعْرِفُ وُجُوهَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عِنْدَ الْمَوْتِ، فَاذْهَبْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْنَسْأَلْهُ‏:‏ فِيمَنْ هَذَا الأَمْرُ‏؟‏ فَإِنْ كَانَ فِينَا عَلِمْنَا ذَلِكَ، وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِنَا كَلَّمْنَاهُ فَأَوْصَى بِنَا، فَقَالَ عَلِيٌّ‏:‏ إِنَّا وَاللَّهِ إِنْ سَأَلْنَاهُ فَمَنَعَنَاهَا لَا يُعْطِينَاهَا النَّاسُ بَعْدَهُ أَبَدًا، وَإِنِّي وَاللَّهِ لاَ أَسْأَلُهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَدًا‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس بیماری میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وفات پائی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے باہر آئے تو لوگوں نے پوچھا: ابوالحسن! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کس حال میں صبح کی ہے؟ انہوں نے کہا: الحمد للہ اب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو افاقہ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ان کا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف لے گئے اور کہا: کیا تمہیں خبر ہے! اللہ کی قسم تم تین دن بعد لاٹھی کے بندے بن جاؤ گے، یعنی دوسروں کے ماتحت ہوگے۔ اور میں اللہ کی قسم دیکھ رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس مرض میں وفات پا جائیں گے، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ موت کے وقت بنو عبدالمطلب کے چہرے کیسے ہوتے ہیں۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چلیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خلافت کے بارے پوچھ لیں۔ اگر ہم میں سے کوئی ہوگا تو ہم اسے جان لیں گے، اور اگر ہمارے علاوہ کوئی اور ہوگا تو ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بات کریں کہ آپ ہمارے بارے میں وصیت فرما دیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم نے سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اس سے منع کر دیا تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کبھی ہمیں اقتدار نہیں دیں گے۔ اللہ کی قسم! میں اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کبھی سوال نہیں کروں گا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الرَّسَائِلِ‏/حدیث: 1130]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب المغازي: 4447»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح