بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ذمیوں کو سلام کا جواب کیسے دیا جائے؟
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب أهل الكتاب ذمیوں کو سلام کا جواب کیسے دیا جائے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1106 الادب المفرد
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏: ”إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدُهُمْ، فَإِنَّمَا يَقُولُ‏:‏ السَّامُ عَلَيْكَ، فَقُولُوا‏:‏ وَعَلَيْكَ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب یہودیوں میں سے کوئی تمہیں سلام کہتا ہے تو وہ کہتا ہے: «السام علیک» (تمہیں موت آئے)، تم بھی جواب میں «وعلیک» (تجھے موت پڑے) کہا کرو۔ [الادب المفرد/كِتَابُ أَهْلِ الْكِتَابِ/حدیث: 1106]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الاستئذان: 6257 و مسلم: 2164 و أبوداؤد: 5206 و الترمذي: 1603 و النسائي فى الكبرىٰ: 10138»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1107 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ‏:‏ رُدُّوا السَّلاَمَ عَلَى مَنْ كَانَ يَهُودِيًّا، أَوْ نَصْرَانِيًّا، أَوْ مَجُوسِيًّا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ يَقُولُ‏:‏ ﴿‏وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا﴾ ‏ [النساء: 86] .
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یہودی، عیسائی اور مجوسی ہر ایک کو سلام کا جواب دو کیونکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: جب تمہیں تحفہ سلام پیش کیا جائے تو اس کا اچھے اور بہتر طریقے سے جواب دو یا اتنا ہی لوٹا دو۔ [سورہ النساء: 86] [الادب المفرد/كِتَابُ أَهْلِ الْكِتَابِ/حدیث: 1107]
تخریج الحدیث
«حسن: أخرجه ابن أبى شيبة: 25765 و ابن أبى الدنيا فى الصمت: 307 و ابن أبى حاتم فى تفسيره: 5729 و أبويعلي: 1527 - أنظر الصحيحة: 329/2»
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن