بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ذمیوں کو سلام میں پہل نہ کی جائے
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب أهل الكتاب ذمیوں کو سلام میں پہل نہ کی جائے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1102 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”إِنِّي رَاكِبٌ غَدًا إِلَى يَهُودَ، فَلاَ تَبْدَأُوهُمْ بِالسَّلاَمِ، فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا‏:‏ وَعَلَيْكُمْ‏.“‏
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، مِثْلَهُ، وَزَادَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں کل صبح یہودیوں کی طرف جارہا ہوں، لہٰذا انہیں سلام میں پہل نہ کرنا، اور اگر وہ تمہیں سلام کہیں تو جواب میں «وعلیکم» کہنا۔
ایک دوسرے طریق سے سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے، مگر اس میں ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ أَهْلِ الْكِتَابِ/حدیث: 1102]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه ابن أبى شيبة: 25764 و أحمد: 27235 و النسائي فى الكبرىٰ: 10148 و ابن ماجه: 3699 من حديث أبى عبدالرحمٰن الجهني»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1103 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”أَهْلُ الْكِتَابِ لاَ تَبْدَأُوهُمْ بِالسَّلاَمِ، وَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِ الطَّرِيقِ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اہلِ کتاب کو سلام میں (کسی صورت بھی) پہل نہ کرو، اور انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔ [الادب المفرد/كِتَابُ أَهْلِ الْكِتَابِ/حدیث: 1103]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه مسلم، كتاب السلام: 2167 و أبوداؤد: 5205 و الترمذي: 1602»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح