بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مخصوص لوگوں کو سلام کہنا مکروہ ہے
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب السلام مخصوص لوگوں کو سلام کہنا مکروہ ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1049 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنْ طَارِقٍ قَالَ‏:‏ كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ جُلُوسًا، فَجَاءَ آذِنُهُ فَقَالَ‏:‏ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ، فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَدَخَلْنَا الْمَسْجِدَ، فَرَأَى النَّاسَ رُكُوعًا فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ، فَكَبَّرَ وَرَكَعَ، وَمَشَيْنَا وَفَعَلْنَا مِثْلَ مَا فَعَلَ، فَمَرَّ رَجُلٌ مُسْرِعٌ فَقَالَ‏:‏ عَلَيْكُمُ السَّلاَمُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ‏:‏ صَدَقَ اللَّهُ، وَبَلَّغَ رَسُولُهُ، فَلَمَّا صَلَّيْنَا رَجَعَ، فَوَلَجَ عَلَى أَهْلِهِ، وَجَلَسْنَا فِي مَكَانِنَا نَنْتَظِرُهُ حَتَّى يَخْرُجَ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ‏:‏ أَيُّكُمْ يَسْأَلُهُ‏؟‏ قَالَ طَارِقٌ‏:‏ أَنَا أَسْأَلُهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ‏:‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ‏:‏ تَسْلِيمُ الْخَاصَّةِ، وَفُشُوُّ التِّجَارَةِ حَتَّى تُعِينَ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا عَلَى التِّجَارَةِ، وَقَطْعُ الأَرْحَامِ، وَفُشُوُّ الْقَلَمِ، وَظُهُورُ الشَّهَادَةِ بِالزُّورِ، وَكِتْمَانُ شَهَادَةِ الْحَقِّ‏.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
طارق بن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے کہ اطلاع دینے والے نے آ کر کہا کہ نماز کھڑی ہوگئی ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما اٹھے اور ہم بھی ان کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔ ہم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا مسجد کے اگلے حصے میں لوگ رکوع میں تھے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے گئے اور ہم بھی آگے بڑھے اور ایسے ہی کیا۔ پھر (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) ایک شخص جلدی سے گزرا اور کہا: «السلام علیکم» اے ابو عبدالرحمٰن۔ انہوں نے فرمایا: اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول نے صحیح صحیح پہنچا دیا۔ پھر ہم نماز سے فارغ ہو کر واپس آگئے اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما اپنے گھر چلے گئے۔ ہم اپنی جگہ بیٹھ کر ان کا انتظار کرنے لگے یہاں تک کہ وہ باہر آجائیں۔ ہم نے ایک دوسرے سے کہا کہ کون ان سے سوال کرے گا (کہ انہوں نے سلام کا جواب دینے کے بجائے یہ کیوں کہا کہ اللہ نے سچ کہا اور اس کے رسول نے پہنچا دیا)، طارق نے کہا: میں سوال کروں گا، چنانچہ انہوں نے سوال کیا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے قریب سلام خاص لوگوں کو کہا جائے گا، تجارت عام ہو جائے گی حتی کہ بیوی تجارت کے معاملات میں خاوند کی معاونت کرے گی، قطع رحمی کی جائے گی، علم پھیل جائے گا، جھوٹی گواہی عام ہوگی، اور سچی گواہی کو چھپایا جائے گا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّلامِ/حدیث: 1049]
تخریج الحدیث
«صحيح: مسند أحمد: 407/1»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1050 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ أَيُّ الإِسْلاَمِ خَيْرٌ‏؟‏ قَالَ‏: ”تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: بہترین اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم کھانا کھلاؤ، اور ہر جان پہچان والے اور اجنبی کو سلام کہو۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّلامِ/حدیث: 1050]
تخریج الحدیث
«صحيح: صحيح البخاري، الإيمان، حديث: 12»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح