حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ عُبَيْدٍ، بَطْنٌ مِنْ حِمْيَرٍ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى رُوَيْفِعٍ، وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى أَنْطَابُلُسَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، وَنَحْنُ عِنْدَهُ، فَقَالَ: السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الأَمِيرُ، فَقَالَ لَهُ رُوَيْفِعٌ: لَوْ سَلَّمْتَ عَلَيْنَا لَرَدَدْنَا عَلَيْكَ السَّلاَمَ، وَلَكِنْ إِنَّمَا سَلَّمْتَ عَلَى مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ، وَكَانَ مَسْلَمَةُ عَلَى مِصْرَ، اذْهَبْ إِلَيْهِ فَلْيَرُدَّ عَلَيْكَ السَّلاَمَ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
زیاد بن عبید حمیری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا رویفع بن سکن انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جبکہ وہ انطابلس کے امیر تھے، ہم وہاں موجود تھے کہ ایک آدمی آیا اور سلام کہتے ہوئے یہ الفاظ بولے: «السلام عليك أيها الأمير» ! تو سیدنا رویفع رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اگر تم ہمیں سلام کہتے تو ہم تیرے سلام کا جواب دیتے، لیکن تم نے تو مسلمہ بن مخلد پر سلام کیا ہے (سیدنا مسلمہ رضی اللہ عنہ ان دنوں مصر کے گورنر تھے)۔ ان کے پاس جاؤ وہی تیرے سلام کا جواب دیں گے۔ زیاد کہتے ہیں کہ جب وہ کسی مجلس میں ہوتے اور ہم آ کر سلام کرتے تو یوں کہتے: «السلام علیکم» ۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّلامِ/حدیث: 1027]
تخریج الحدیث
«ضعيف الإسناد موقوفًا: تفرد به المصنف»
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد موقوفًا
الحكم: ضعيف الإسناد موقوفًا