بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ہاتھ چومنے کا بیان
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب السلام ہاتھ چومنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 972 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ‏:‏ كُنَّا فِي غَزْوَةٍ، فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً، قُلْنَا‏:‏ كَيْفَ نَلْقَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ فَرَرْنَا‏؟‏ فَنَزَلَتْ‏: ﴿‏إِلاَّ مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ‏﴾ [الأنفال: 16] ، فَقُلْنَا‏:‏ لاَ نَقْدِمُ الْمَدِينَةَ، فَلاَ يَرَانَا أَحَدٌ، فَقُلْنَا‏:‏ لَوْ قَدِمْنَا، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلاَةِ الْفَجْرِ، قُلْنَا‏:‏ نَحْنُ الْفَرَّارُونَ، قَالَ‏:‏ ”أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ“، فَقَبَّلْنَا يَدَهُ، قَالَ‏:‏ ”أَنَا فِئَتُكُمْ‏.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم ایک غزوے (موتہ) میں تھے کہ لوگ یک بار بھاگ کھڑے ہوئے۔ ہم نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کیا منہ دکھائیں گے کہ ہم میدان جنگ سے بھاگ آئے ہیں؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «إِلَّا مَنْ تَوَلَّىٰ لِلْقِتَالِ» [الأنفال: 16] سوائے اس کے جو جنگ کے لیے رخ بدل لے۔ ہم نے کہا کہ ہم مدینہ نہیں جائیں گے تاکہ کوئی ہمیں نہ دیکھے، پھر ہم نے کہا: اگر چلے جائیں (تو یہی بہتر ہے)۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز فجر سے فارغ ہوئے تو ہم نے کہا: ہم بھگوڑے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم دوبارہ حملہ کرنے والے ہو، نہ کہ بھاگنے والے۔ تب ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ مبارک کا بوسہ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لیے مرکزی شخصیت ہوں، میری طرف ہی آنا چاہیے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّلامِ/حدیث: 972]
تخریج الحدیث
«ضعيف: سنن أبى داؤد، الجهاد، ح: 2647 و جامع الترمذي، الجهاد، ح: 1716»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 973 الادب المفرد
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ رَزِينٍ قَالَ‏:‏ مَرَرْنَا بِالرَّبَذَةِ فَقِيلَ لَنَا‏:‏ هَا هُنَا سَلَمَةُ بْنُ الأَكْوَعِ، فَأَتَيْنَاهُ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ، فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ فَقَالَ‏:‏ بَايَعْتُ بِهَاتَيْنِ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْرَجَ كَفًّا لَهُ ضَخْمَةً كَأَنَّهَا كَفُّ بَعِيرٍ، فَقُمْنَا إِلَيْهَا فَقَبَّلْنَاهَا‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
عبدالرحمٰن بن رزین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم ربذہ مقام سے گزرے تو ہمیں بتایا گیا کہ یہاں سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ تشریف رکھتے ہیں۔ ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کہا۔ پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ نکالے اور فرمایا: میں نے ان دونوں ہاتھوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیعت کی ہے۔ انہوں نے اپنی بھاری بھرکم ہتھیلی نکالی تو وہ اونٹ کی ہتھیلی کی طرح بڑی تھی۔ ہم اس کی طرف اٹھے اور اس کا بوسہ لیا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّلامِ/حدیث: 973]
تخریج الحدیث
«حسن: المعجم الأوسط للطبراني: 205/1»
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 974 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، قَالَ ثَابِتٌ لأَنَسٍ‏:‏ أَمَسَسْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِكَ‏؟‏ قَالَ‏:‏ نَعَمْ، فَقَبَّلَهَا‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
ثابت رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: کیا آپ نے کبھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہاتھ چھوا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر اس نے ان کا ہاتھ چوم لیا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّلامِ/حدیث: 974]
تخریج الحدیث
«ضعيف الإسناد موقوف: تفرد به المصنف»
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد موقوف
الحكم: ضعيف الإسناد موقوف