حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشْبَهَ حَدِيثًا وَكَلاَمًا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَاطِمَةَ، وَكَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ قَامَ إِلَيْهَا، فَرَحَّبَ بِهَا وَقَبَّلَهَا، وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ، وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا قَامَتْ إِلَيْهِ فَأَخَذَتْ بِيَدِهِ، فَرَحَّبَتْ بِهِ وَقَبَّلَتْهُ، وَأَجْلَسَتْهُ فِي مَجْلِسِهَا، فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ، فَرَحَّبَ بِهَا وَقَبَّلَهَا.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے کسی کو بات چیت میں اور گفتگو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشابہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر نہیں دیکھا۔ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آتیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگے بڑھ کر ان کا استقبال کرتے، انہیں بوسہ دیتے اور اپنی جگہ پر انہیں بٹھاتے۔ اور جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس جاتے تو وہ بھی اٹھ کر استقبال کرتیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیتیں، خوش آمدید کہتیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بوسہ دیتیں، نیز اپنی جگہ پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بٹھاتیں، چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس بیماری میں تشریف لائیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فوت ہوئے، تو بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خوش آمدید کہا اور انہیں بوسہ دیا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّلامِ/حدیث: 971]
تخریج الحدیث
«صحيح: جامع الترمذي، الأدب، ح: 3872»
الحكم: صحيح