بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بچے کے سر پر عورت کا ہاتھ پھیرنا
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب السلام بچے کے سر پر عورت کا ہاتھ پھیرنا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 969 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ الثَّقَفِيُّ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي أَبِي، وَكَانَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ فَأَخَذَهُ الْحَجَّاجُ مِنْهُ، قَالَ‏:‏ كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ بَعَثَنِي إِلَى أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ فَأُخْبِرُهَا بِمَا يُعَامِلُهُمْ حَجَّاجٌ، وَتَدْعُو لِي، وَتَمْسَحُ رَأْسِي، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ وَصِيفٌ‏.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
مرزوق ثقفی رحمہ اللہ سے روایت ہے (یہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے خادم تھے جنہیں حجاج نے پکڑ لیا تھا) وہ کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنی والدہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تاکہ میں انہیں بتاؤں کہ حجاج ان کے ساتھ کیا معاملہ کرتا ہے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے میرے لیے دعا کی، اور میرے سر پر ہاتھ پھیرا، اور میں ان دنوں بلوغت کے قریب تھا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّلامِ/حدیث: 969]
تخریج الحدیث
«ضعيف الإسناد موقوف: تفرد به المصنف. اس كي سند ميں ابراهيم بن مرزوق اور اس كا باپ دونوں مجهول هيں.»
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد موقوف
الحكم: ضعيف الإسناد موقوف