بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جو شخص اس بات کو ناپسند کرے کہ خود تو بیٹھا رہے اور لوگ اس کے لیے کھڑے رہیں
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب جو شخص اس بات کو ناپسند کرے کہ خود تو بیٹھا رہے اور لوگ اس کے لیے کھڑے رہیں
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 960 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ‏:‏ صُرِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ بِالْمَدِينَةِ عَلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ، فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ، فَكُنَّا نَعُودُهُ فِي مَشْرُبَةٍ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَأَتَيْنَاهُ وَهُوَ يُصَلِّي قَاعِدًا، فَصَلَّيْنَا قِيَامًا، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى وَهُوَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ قَاعِدًا، فَصَلَّيْنَا خَلْفَهُ قِيَامًا، فَأَوْمَأَ إِلَيْنَا أَنِ اقْعُدُوا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ قَالَ‏:‏ ”إِذَا صَلَّى الإِمَامُ قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَلاَ تَقُومُوا وَالإِمَامُ قَاعِدٌ كَمَا تَفْعَلُ فَارِسُ بِعُظَمَائِهِمْ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینہ طیبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھوڑے سے کھجور کے ایک تنے پر گر گئے، جس سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاؤں مبارک کو موچ آگئی۔ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے چوبارے میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عیادت کرتے تھے، چنانچہ ایک دفعہ ہم آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی، پھر ہم دوبارہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرض نماز بیٹھ کر پڑھ رہے تھے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوکر نماز پڑھی، تو (دوران نماز) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز ختم کی تو فرمایا: جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو، اور جب وہ کھڑے ہو کر پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو۔ امام بیٹھا ہو تو تم کھڑے مت رہو جس طرح اہل فارس اپنے بڑوں کے لیے کرتے ہیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 960]
تخریج الحدیث
«صحيح: سنن أبى داؤد، الصلاة، ح: 602 و ابن ماجة، الطب، ح: 3485»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 961 الادب المفرد
قَالَ‏:‏ وَوُلِدَ لِفُلاَنٍ مِنَ الأَنْصَارِ غُلامٌ، فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا، فَقَالَتِ الأنْصَارُ‏:‏ لا نُكَنِّيكَ بِرَسُولِ اللهِ‏.‏ حَتَّى قَعَدْنَا فِي الطَّرِيقِ نَسْأَلُهُ عَنِ السَّاعَةِ، فَقَالَ‏:‏ ”جِئْتُمُونِي تَسْأَلُونِي عَنِ السَّاعَةِ‏؟‏“ قُلْنَا‏:‏ نَعَمْ، قَالَ‏:‏ ”مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ، يَأْتِي عَلَيْهَا مِئَةُ سَنَةٍ“، قُلْنَا‏:‏ وُلِدَ لِفُلاَنٍ مِنَ الأَنْصَارِ غُلاَمٌ فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا، فَقَالَتِ الأنْصَارُ‏:‏ لا نُكَنِّيكَ بِرَسُولِ اللهِ، قَالَ‏:‏ ”أَحْسَنَتِ الأَنْصَارُ، سَمُّوا بِاسْمِي، ولا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ انصار کے کسی آدمی کے ہاں بچہ ہوا تو اس نے اس کا نام محمد رکھا۔ انصار نے کہا: ہم تمہیں اللہ کے رسول کی کنیت سے نہیں پکاریں گے یہاں تک کہ ہم راستہ میں بیٹھ گئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قیامت کے متعلق سوال کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم مجھ سے قیامت کے متعلق سوال کرنے کے لیے آئے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی زنده جان ایسی نہیں جو سو سال پورے کرے۔ (مگر اس پر قیامت آجائے گی۔) ہم نے عرض کیا: ایک انصاری کے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے جس کا نام اس نے محمد رکھا ہے، تو انصار نے اسے کہا ہے کہ ہم تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کنیت سے ہرگز نہیں پکاریں گے، (یعنی ابو القاسم نہیں کہیں گے۔) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انصار نے اچھا کیا ہے، میرے نام پر نام رکھ لو، مگر میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 961]
تخریج الحدیث
«صحيح: صحيح البخاري، فرض الخمس، ح: 3115»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح