بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مرد کا عورت کو چھینک کا جواب دینا
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب العطاس والتثاؤب مرد کا عورت کو چھینک کا جواب دینا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 941 الادب المفرد
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِشْكَابَ، قَالاَ‏:‏ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ‏:‏ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى، وَهُوَ فِي بَيْتِ ابْنَتِهِ أُمِّ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ، فَعَطَسْتُ فَلَمْ يُشَمِّتْنِي، وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَهَا، فَأَخْبَرْتُ أُمِّي، فَلَمَّا أَتَاهَا وَقَعَتْ بِهِ وَقَالَتْ‏:‏ عَطَسَ ابْنِي فَلَمْ تُشَمِّتْهُ، وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَّهَا، فَقَالَ لَهَا‏:‏ إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتُوهُ، وَإِنْ لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ فَلاَ تُشَمِّتُوهُ“، وَإِنَّ ابْنَكِ عَطَسَ فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ، فَلَمْ أُشَمِّتْهُ، وَعَطَسَتْ فَحَمِدَتِ اللَّهَ فَشَمَّتُّهَا، فَقَالَتْ‏:‏ أَحْسَنْتَ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
ابو بردہ بن ابو موسیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں اپنے والد سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا جبکہ وہ (اپنی بیوی) فضل بن عباس کی بیٹی (ام کلثوم) کے ہاں تھے۔ مجھے چھینک آئی تو انہوں نے مجھے جواب نہ دیا اور اسے (ام کلثوم کو) چھینک آئی تو اسے انہوں نے جواب دیا۔ میں نے اپنی والدہ (ام عبداللہ) کو بتایا۔ جب والد محترم ان کے پاس آئے تو وہ خوب بولیں، اور کہا: میرے بیٹے کو چھینک آئی تو اس کو آپ نے جواب نہیں دیا، اور اسے (اپنی بیوی ام کلثوم کو) جواب دیا۔ انہوں نے میری والدہ سے کہا: بلاشبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ «الحمد للہ» کہے تو اسے جواب دو، اور اگر وہ «الحمد للہ» نہ کہے تو اسے جواب مت دو۔ اور میرے بیٹے کو چھینک آئی اور اس نے «الحمد للہ» نہیں کہا تو میں نے جواب نہیں دیا، اور اسے (ام کلثوم) کو چھینک آئی اور اس نے «الحمد للہ» کہا تو میں نے اسے جواب دیا۔ اس نے کہا: آپ نے بہت اچھا کیا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْعُطَاسَ والتثاؤب/حدیث: 941]
تخریج الحدیث
«صحيح: صحيح مسلم، الزهد و الرقائق، ح: 2992 و الحاكم فى المستدرك: 265/4»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح