بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جب کوئی اللہ کی تعریف نہ کرے تو اسے چھینک کا جواب نہ دیا جائے
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب العطاس والتثاؤب جب کوئی اللہ کی تعریف نہ کرے تو اسے چھینک کا جواب نہ دیا جائے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 931 الادب المفرد
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ‏:‏ عَطَسَ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا، وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ، فَقَالَ‏:‏ شَمَّتَّ هَذَا وَلَمْ تُشَمِّتْنِي‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ، وَلَمْ تَحْمَدْهُ‏.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس دو آدمیوں کو چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کو جواب دیا اور دوسرے کو جواب نہ دیا۔ جسے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب نہ دیا اس نے کہا کہ آپ نے اسے جواب دیا اور مجھے نہیں دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس نے اللہ کی تعریف کی اور تم نے اللہ کی تعریف نہیں کی۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْعُطَاسَ والتثاؤب/حدیث: 931]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب: 6225 و مسلم: 2991 و أبوداؤد: 5039 و الترمذي: 2742 و ابن ماجه: 3713»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 932 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ هُوَ أَخُو ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ جَلَسَ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا أَشْرَفُ مِنَ الْآخَرِ، فَعَطَسَ الشَّرِيفُ مِنْهُمَا فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ، وَلَمْ يُشَمِّتْهُ، وَعَطَسَ الْآخَرُ فَحَمِدَ اللَّهَ، فَشَمَّتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الشَّرِيفُ‏:‏ عَطَسْتُ عِنْدَكَ فَلَمْ تُشَمِّتْنِي، وَعَطَسَ هَذَا الْآخَرُ فَشَمَّتَّهُ، فَقَالَ‏:‏ ”إِنَّ هَذَا ذَكَرَ اللَّهَ فَذَكَرْتُهُ، وَأَنْتَ نَسِيتَ اللَّهَ فَنَسِيتُكَ‏.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس دو آدمی بیٹھے جن میں سے ایک دوسرے سے زیادہ معزز تھا۔ ان میں سے جو معزز تھا اسے چھینک آئی اور اس نے «الحمد لله» نہ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے جواب نہ دیا۔ دوسرے کو چھینک آئی اور اس نے «الحمد للہ» کہا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے «يرحمك الله» کہا۔ اس پر اس معزز آدمی نے کہا: میں نے آپ کے پاس چھینک لی تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا۔ اور اس کو آپ نے جواب دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس نے اللہ کو یاد کیا تو میں نے بھی اسے یاد کیا، اور تم اللہ کو بھول گئے تو میں نے بھی تمہیں بھلا دیا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْعُطَاسَ والتثاؤب/حدیث: 932]
تخریج الحدیث
«حسن:» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن