بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
خاندانی شرافت کا بیان
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب خاندانی شرافت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 896 الادب المفرد
حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ مَعْمَرٍ الْعَوْقِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏: ”إِنَّ الْكَرِيمَ ابْنَ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یقیناً معزز بن معزز بن معزز بن معزز یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 896]
تخریج الحدیث
«صحيح: تقدم تخريجه، برقم: 605»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 897 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”إِنَّ أَوْلِيَائِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُتَّقُونَ، وَإِنْ كَانَ نَسَبٌ أَقْرَبَ مِنْ نَسَبٍ، فَلاَ يَأْتِينِي النَّاسُ بِالأَعْمَالِ وَتَأْتُونَ بِالدُّنْيَا تَحْمِلُونَهَا عَلَى رِقَابِكُمْ، فَتَقُولُونَ‏:‏ يَا مُحَمَّدُ، فَأَقُولُ هَكَذَا وَهَكَذَا‏:‏ لَا“، وَأَعْرَضَ فِي كِلا عِطْفَيْهِ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے دوست روز قیامت متقی لوگ ہوں گے، خواہ کسی کا نسب دوسرے کی نسبت مجھ سے زیادہ قریب ہو۔ ایسا نہ ہو کہ لوگ میرے پاس اعمال لے کر آئیں اور تم دنیا کو اپنی گردنوں پر اٹھائے ہوئے آؤ اور کہو: اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری مدد کیجیے، تو میں اس طرح سے انکار کروں کہ: چلو چلو۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دونوں جانب اعراض کر کے اشارہ کیا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 897]
تخریج الحدیث
«حسن: أخرجه ابن أبى عاصم فى السنة: 213 و الطبراني فى تهذيب الآثار: 434 و البيهقي فى الزهد: 882 - أنظر الصحيحة: 765»
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 898 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ‏:‏ لاَ أَرَى أَحَدًا يَعْمَلُ بِهَذِهِ الْآيَةِ‏: ‏ ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى‏﴾ [الحجرات: 13] حَتَّى بَلَغَ‏: ﴿‏إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمْ﴾ [الحجرات: 13] ‏، فَيَقُولُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ‏:‏ أَنَا أَكْرَمُ مِنْكَ، فَلَيْسَ أَحَدٌ أَكْرَمَ مِنْ أَحَدٍ إِلا بِتَقْوَى اللهِ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میرے خیال میں اس آیت کریمہ پر کوئی عمل نہیں کرتا: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ» [الحجرات: 13] اے لوگو! بلاشبہ ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، اور تمہارے خاندان اور قبیلے بنا دیے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ متقی ہے۔ اب آدمی دوسرے سے کہتا ہے: میں تجھ سے زیادہ عزت والا ہوں، حالانکہ تقویٰ کے بغیر کوئی کسی سے بڑھ کر عزت و شرف والا نہیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 898]
تخریج الحدیث
«صحيح:» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 899 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ قَالَ‏:‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ‏:‏ مَا تَعُدُّونَ الْكَرَمَ‏؟‏ وَقَدْ بَيَّنَ اللَّهُ الْكَرَمَ، فَأَكْرَمُكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمْ، مَا تَعُدُّونَ الْحَسَبَ‏؟‏ أَفْضَلُكُمْ حَسَبًا أَحْسَنُكُمْ خُلُقًا‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: تم عزت و شرف کس کو سمجھتے ہو؟ اللہ تعالیٰ نے عزت کی وضاحت فرما دی ہے کہ وہ کیا ہے۔ چنانچہ تم میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ متقی ہے۔ تم شرافت کس کو شمار کرتے ہو؟ جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے وہ شرف و عزت میں سب سے بڑھ کر ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 899]
تخریج الحدیث
«صحيح:» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح