بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
کسی کا مذاق اڑانا اور ارشادِ باری تعالیٰ: ”کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے“ کا بیان
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب الكلام کسی کا مذاق اڑانا اور ارشادِ باری تعالیٰ: ”کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے“ کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 887 الادب المفرد
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ‏:‏ مَرَّ رَجُلٌ مُصَابٌ عَلَى نِسْوَةٍ، فَتَضَاحَكْنَ بِهِ يَسْخَرْنَ، فَأُصِيبَ بَعْضُهُنَّ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک مصیبت زدہ آدمی کچھ عورتوں کے پاس سے گزرا، وہ اس پر ہنسیں اور اس کا مذاق اڑایا تو ان میں سے بعض عورتیں اسی مصیبت کا شکار ہو گئیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْكَلامِ/حدیث: 887]
تخریج الحدیث
«ضعيف: اس ميں ام علقمه راويه، جس كا نام مرجانه هے، مجهوله هے.»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف