بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
آدمی، گھوڑے یا کسی چیز کو بحر کہنا
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب الكلام آدمی، گھوڑے یا کسی چیز کو بحر کہنا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 879 الادب المفرد
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ‏:‏ كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ، فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لأَبِي طَلْحَةَ، يُقَالُ لَهُ‏:‏ الْمَنْدُوبُ، فَرَكِبَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ‏:‏ ”مَا رَأَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک رات اہل مدینہ پر خوف و ہراس طاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا گھوڑا مستعار لیا جسے مندوب کہا جاتا تھا، اور اس پر سوار ہو کر آگے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس آئے تو فرمایا: ہم نے کوئی چیز نہیں دیکھی، اور ہم نے اس گھوڑے کو بحر پایا ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْكَلامِ/حدیث: 879]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الهبة، باب من استعار من الناس الفرس: 2627 و مسلم: 2307 و أبوداؤد: 4988 و الترمذي: 1685 و النسائي فى الكبرىٰ: 8770 و ابن ماجه: 2772»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح