بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جس نے کہا: بعض بیان جادو ہوتے ہیں
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب الشعر جس نے کہا: بعض بیان جادو ہوتے ہیں
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 872 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَارِمٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً - أَوْ أَعْرَابِيًّا - أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ بِكَلاَمٍ بَيِّنٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏: ”إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی یا دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور بڑی واضح گفتگو کی۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کئی بیان جادو اثر ہوتے ہیں، اور کئی شعر حکمت پر مبنی ہوتے ہیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الشِّعْرِ/حدیث: 872]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أبوداؤد، كتاب الأدب: 5011 و الترمذي: 2245 و ابن ماجه: 3756 - أنظر الصحيحة: 1731»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 873 الادب المفرد
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مَعْنٌ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ سَلاَّمٍ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ دَفَعَ وَلَدَهُ إِلَى الشَّعْبِيِّ يُؤَدِّبُهُمْ، فَقَالَ‏:‏ عَلِّمْهُمُ الشِّعْرَ يَمْجُدُوا وَيُنْجِدُوا، وَأَطْعِمْهُمُ اللَّحْمَ تَشْتَدُّ قُلُوبُهُمْ، وَجُزَّ شُعُورَهُمْ تَشْتَدُّ رِقَابُهُمْ، وَجَالِسْ بِهِمْ عِلْيَةَ الرِّجَالِ يُنَاقِضُوهُمُ الْكَلامَ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
عمر بن سلام رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان نے اپنے بیٹے کو امام شعبی رحمہ اللہ کے حوالے کیا تاکہ وہ انہیں آداب سکھائیں، اور ساتھ ہی کہا: انہیں شعر سکھانا تاکہ یہ بزرگی اور عظمت والے بن جائیں، اور انہیں گوشت کھلانا تاکہ ان کے دل مضبوط ہو جائیں، اور ان کے بال کاٹتے رہنا تاکہ ان کی گردنیں مضبوط ہوں، نیز انہیں بڑے لوگوں کے ساتھ بٹھانا تاکہ یہ ان سے مناقضہ (بحث و مباحثہ) کر سکیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الشِّعْرِ/حدیث: 873]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه ابن أبى الدنيا فى العيال: 338 و الخرائطي فى مكارم الأخلاق: 737 و وكيع فى أخبار القضاة: 421/2»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح