بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بعض اشعار حکمت پر مبنی ہوتے ہیں
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب الشعر بعض اشعار حکمت پر مبنی ہوتے ہیں
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 856 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ خَالِدٍ هُوَ ابْنُ كَيْسَانَ قَالَ‏:‏ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَوَقَفَ عَلَيْهِ إِيَاسُ بْنُ خَيْثَمَةَ قَالَ‏:‏ أَلاَ أُنْشِدُكَ مِنْ شِعْرِي يَا ابْنَ الْفَارُوقِ‏؟‏ قَالَ‏:‏ بَلَى، وَلَكِنْ لاَ تُنْشِدْنِي إِلاَّ حَسَنًا‏.‏ فَأَنْشَدَهُ حَتَّى إِذَا بَلَغَ شَيْئًا كَرِهَهُ ابْنُ عُمَرَ، قَالَ لَهُ‏:‏ أَمْسِكْ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
خالد بن کیسان رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ایاس بن خیثمہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے ابن فاروق! کیا میں آپ کو اپنے شعر نہ سناؤں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن مجھے صرف اچھے اشعار سنانا۔ اس نے اشعار پڑھے یہاں تک کہ جب وہ ایسے اشعار پر پہنچے جو ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ناپسند تھے، تو انہوں نے کہا: بس رک جاؤ۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الشِّعْرِ/حدیث: 856]
تخریج الحدیث
«ضعيف:» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 857 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعَ مُطَرِّفًا قَالَ‏:‏ صَحِبْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ مِنَ الْكُوفَةِ إِلَى الْبَصْرَةِ، فَقَلَّ مَنْزِلٌ يَنْزِلُهُ إِلاَّ وَهُوَ يُنْشِدُنِي شِعْرًا، وَقَالَ‏:‏ إِنَّ فِي الْمَعَارِيضِ لَمَنْدُوحَةٌ عَنِ الْكَذِبِ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
مطرف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے کوفہ سے بصرہ تک سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کیا۔ وہ جہاں بھی پڑاؤ کرتے مجھے شعر سناتے، اور انہوں نے فرمایا: تعريض (توریے) میں جھوٹ سے بچنے کا طریقہ ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الشِّعْرِ/حدیث: 857]
تخریج الحدیث
«صحيح موقوفًا: أخرجه ابن أبى شيبة: 26096 و الطحاوي فى المشكل: 370/7 و الطبراني فى الكبير: 106/18 و الخرائطي فى مساوي الأخلاق: 166 - أنظر الضعيفة: 1094»
قال الشيخ الألباني
صحيح موقوفًا
الحكم: صحيح موقوفًا
حدیث نمبر: 858 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏: ”إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بعض اشعار حکمت والے ہوتے ہیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الشِّعْرِ/حدیث: 858]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب: 6145 و أبوداؤد: 5010 و ابن ماجه: 3755 - انظر الصحيحة: 2857»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 859 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ‏:‏ قُلْتُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي مَدَحْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ بِمَحَامِدَ، قَالَ‏: ”أَمَا إِنَّ رَبَّكَ يُحِبُّ الْحَمْدَ“، وَلَمْ يَزِدْهُ عَلَى ذَلِكَ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے رب کی تعریف میں چند کلمے کہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، تیرا رب تعریف کو پسند کرتا ہے۔ اس سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ نہیں کہا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الشِّعْرِ/حدیث: 859]
تخریج الحدیث
«حسن: أخرجه أحمد: 15586 و النسائي فى الكبريٰ: 159/7 - انظر الصحيحة: 3179»
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 860 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏: ”لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا حَتَّى يَرِيَهُ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے یہاں تک کہ وہ اس کے پیٹ کو خراب کر دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھرا ہوا ہو۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الشِّعْرِ/حدیث: 860]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب: 6155 و مسلم: 2257 و أبوداؤد: 5009 و الترمذي: 2851 و ابن ماجه: 3759»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 861 الادب المفرد
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُبَارَكٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ قَالَ‏:‏ كُنْتُ شَاعِرًا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ‏:‏ أَلاَ أُنْشِدُكَ مَحَامِدَ حَمِدْتُ بِهَا رَبِّي‏؟‏ قَالَ‏: ”إِنَّ رَبَّكَ يُحِبُّ الْمَحَامِدَ“، وَلَمْ يَزِدْنِي عَلَيْهِ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں شاعر تھا، چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے کہا: کیا میں آپ کو شعر نہ سناؤں جن کے ساتھ میں نے اپنے رب کی حمد بیان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ تیرا رب تعریفوں کو پسند کرتا ہے۔ اس سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ نہ فرمایا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الشِّعْرِ/حدیث: 861]
تخریج الحدیث
«حسن: أخرجه النسائي فى الكبرىٰ: 159/7 و الطبراني فى الكبير: 282/1»
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 862 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتِ‏:‏ اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ ”فَكَيْفَ بِنِسْبَتِي‏؟“‏ فَقَالَ‏:‏ لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعْرَةُ مِنَ الْعَجِينِ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مشرکین کی ہجو بیان کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت مانگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے نسب کا کیا ہوگا؟ انہوں نے کہا: میں آپ کو ان سے ایسے نکال لوں گا جس طرح گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکالا جاتا ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الشِّعْرِ/حدیث: 862]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب: 6150، 3531 و مسلم: 2489»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 863 الادب المفرد
وَعَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ‏:‏ ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ عِنْدَ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ‏:‏ لاَ تَسُبَّهُ، فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عروہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے لگا تو انہوں نے فرمایا: انہیں برا بھلا مت کہو، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا (شعروں سے) دفاع کرتے تھے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الشِّعْرِ/حدیث: 863]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب: 6150 و مسلم: 2487»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح