بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بچے کی کنیت رکھنے کا بیان
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب الكنية بچے کی کنیت رکھنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 847 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ‏:‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا، وَلِي أَخٌ صَغِيرٌ يُكَنَّى‏:‏ أَبَا عُمَيْرٍ، وَكَانَ لَهُ نُغَرٌ يَلْعَبُ بِهِ فَمَاتَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ حَزِينًا، فَقَالَ‏: ”مَا شَأْنُهُ‏؟“‏ قِيلَ لَهُ‏:‏ مَاتَ نُغَرُهُ، فَقَالَ‏:‏ ”يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ‏؟“‏‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لاتے اور میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کی کنیت ابو عمیر تھی۔ اس نے ایک بلبل پال رکھی تھی، جس کے ساتھ وہ کھیلتا تھا، تو وہ مرگئی۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو اسے پریشان دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: اسے کیا مسئلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا گیا: اس کی بلبل مرگئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو عمیر! تیری بلبل کو کیا ہوا تجھے جدائی دے گئی۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الكُنْيَةِ/حدیث: 847]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب: 6203، 6129 و مسلم،كتاب الأدب: 2150»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح