بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
انبیاء علیہم السلام کے ناموں پر نام رکھنا
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب الأسماء انبیاء علیہم السلام کے ناموں پر نام رکھنا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 836 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَسَارٍ‏:‏ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏: ”تَسَمُّوا بِاسْمِي، وَلاَ تُكَنُّوا بِكُنْيَتِي، فَإِنِّي أَنَا أَبُو الْقَاسِمِ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھ لیا کرو، لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو، بلا شبہ میں ہی ابو القاسم ہوں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الأسْمَاءِ/حدیث: 836]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب: 6188 و مسلم: 2134 و أبوداؤد: 4965 و الترمذي: 2841 و ابن ماجه: 3735»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 837 الادب المفرد
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ‏:‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ، فَقَالَ رَجُلٌ‏:‏ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا دَعَوْتُ هَذَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏: ”سَمُّوا بِاسْمِي، وَلاَ تُكَنُّوا بِكُنْيَتِي‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بازار میں تھے کہ ایک شخص نے آواز دی: اے ابو القاسم! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے تو اس کو بلایا ہے۔ تب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھو۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الأسْمَاءِ/حدیث: 837]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب البيوع، باب ما ذكر فى الأسواق: 2120 و الترمذي: 2841 و ابن ماجه: 3737»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 838 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي الْهَيْثَمِ الْقَطَّانُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَّمٍ قَالَ‏:‏ سَمَّانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوسُفَ، وَأَقْعَدَنِي عَلَى حِجْرِهِ وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِي‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا نام یوسف رکھا، اور مجھے اپنی گود میں بٹھایا، اور میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الأسْمَاءِ/حدیث: 838]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أحمد: 23836 و الترمذي فى الشمائل: 340 و ابن أبى شيبة: 689 و الطبراني فى الكبير: 285/22 و البيهقي فى شعب الإيمان: 11033»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 839 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَمَنْصُورٍ، وَفُلاَنٍ، سَمِعُوا سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ‏:‏ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا مِنَ الأَنْصَارِ غُلاَمٌ، وَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا، قَالَ شُعْبَةُ فِي حَدِيثِ مَنْصُورٍ‏:‏ إِنَّ الأَنْصَارِيَّ قَالَ‏:‏ حَمَلْتُهُ عَلَى عُنُقِي، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ‏:‏ وُلِدَ لَهُ غُلاَمٌ فَأَرَادُوا أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا، قَالَ‏: ”تَسَمُّوا بِاسْمِي، وَلاَ تُكَنُّوا بِكُنْيَتِي، فَإِنِّي إِنَّمَا جُعِلْتُ قَاسِمًا، أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ‏.“‏ وَقَالَ حُصَيْنٌ‏:‏ ”بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم میں سے ایک انصاری آدمی کے ہاں بیٹا پیدا ہوا، اور اس نے اس کا نام محمد رکھنے کا ارادہ کیا۔ ایک روایت میں ہے، وہ انصاری کہتے ہیں: میں اسے کندھوں پر بٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے آیا۔ سلیمان کی روایت میں ہے: اس کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا تو اس نے اس کا نام محمد رکھنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے نام کے ساتھ نام رکھ لو، اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو، کیونکہ مجھے ہی قاسم بنایا گیا ہے، میں تمہارے درمیان (دین و مال) تقسیم کرنے والا ہوں۔ حصین کی روایت میں ہے: مجھے قاسم بنا کر بھیجا گیا ہے، میں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الأسْمَاءِ/حدیث: 839]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب فرض الخمس: 3114 و مسلم: 2133 - انظر الصحيحة: 2946»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 840 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ‏:‏ وُلِدَ لِي غُلاَمٌ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ، فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ، وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ، وَدَفَعَهُ إِلَيَّ وَكَانَ أَكْبَرَ وَلَدِ أَبِي مُوسَى‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی تو میں اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا نام ابراہیم رکھا، اور کھجور کے ساتھ گھٹی دی، اور اس کے لیے برکت کی دعا کی۔ اور وہ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا بیٹا تھا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الأسْمَاءِ/حدیث: 840]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب، باب من سمى بأسماء الأنبياء: 6198 و مسلم: 2145»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح