بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
زحم نام رکھنا
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب الأسماء زحم نام رکھنا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 829 الادب المفرد
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سُمَيْرٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ نَهِيكٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا بَشِيرٌ قَالَ‏:‏ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ‏:‏ ”مَا اسْمُكَ‏؟‏“ قَالَ‏:‏ زَحْمٌ، قَالَ‏: ”بَلْ أَنْتَ بَشِيرٌ“، فَبَيْنَمَا أَنَا أُمَاشِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ‏: ”يَا ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ، مَا أَصْبَحْتَ تَنْقِمُ عَلَى اللهِ‏؟‏ أَصْبَحْتَ تُمَاشِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“، قُلْتُ‏:‏ بِأَبِي وَأُمِّي، مَا أَنْقِمُ عَلَى اللهِ شَيْئًا، كُلَّ خَيْرٍ قَدْ أَصَبْتُ‏.‏ فَأَتَى عَلَى قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ‏: ”لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلاَءِ خَيْرًا كَثِيرًا“، ثُمَّ أَتَى عَلَى قُبُورِ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ‏:‏ ”لَقَدْ أَدْرَكَ هَؤُلاَءِ خَيْرًا كَثِيرًا“، فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ سِبْتِيَّتَانِ يَمْشِي بَيْنَ الْقُبُورِ، فَقَالَ‏: ”يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ، أَلْقِ سِبْتِيَّتَكَ“، فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ‏.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا بشیر بن نہیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: زحم۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تمہارا نام بشیر ہے۔ اس دوران کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن الخصاصیہ کیا تمہیں اللہ کے کسی فیصلے پر ناگواری ہوئی ہے اور تم اللہ کے رسول کے ساتھ ساتھ چل رہے ہو۔ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! میں اللہ کے کسی فیصلے پر کیسے ناگواری محسوس کروں گا جبکہ مجھے ہر خیر مل گئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مشرکوں کی قبروں کے پاس آئے تو فرمایا: ان سے بہت زیادہ خیر چھوٹ گئی ہے۔ پھر مسلمانوں کی قبروں کے پاس آئے اور فرمایا: ان لوگوں نے خیر کثیر کو پالیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیکھا کہ ایک آدمی سبتی جوتے پہنے قبروں کے درمیان چل رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے سبتی جوتوں والے اپنے سبتی جوتے اتار دو۔ چنانچہ اس نے اپنے جوتے اتار دیے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الأسْمَاءِ/حدیث: 829]
تخریج الحدیث
«صحيح: سبق تخريجه برقم: 775»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 830 الادب المفرد
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِيَادٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ لَيْلَى امْرَأَةَ بَشِيرٍ تُحَدِّثُ، عَنْ بَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ، وَكَانَ اسْمُهُ زَحْمًا، فَسَمَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشِيرًا‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
بشیر کی بیوی لیلیٰ بشیر بن الخصاصیہ کے بارے میں بیان کرتی ہے کہ ان کا نام زحم تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام بشیر رکھا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الأسْمَاءِ/حدیث: 830]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أحمد: 21956 و ابن سعد فى الطبقات: 120/6 و أبوزرعة الدمشقي فى تاريخه: 1842 و ابن معين فى تاريخه: 1598 - انظر الصحيحة: 2427»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح