بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
صرم نام رکھنے کی ممانعت
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب الأسماء صرم نام رکھنے کی ممانعت
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 822 الادب المفرد
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ اسْمُهُ الصَّرْمَ، فَسَمَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعِيدًا، قَالَ‏:‏ رَأَيْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مُتَّكِئًا فِي الْمَسْجِدِ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا سعید بن یربوع مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس کا نام صرم تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا نام سعید رکھا۔ عمر بن عثمان رحمہ اللہ نے کہا: میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ مسجد میں ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الأسْمَاءِ/حدیث: 822]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه المصنف فى تاريخه: 453/3 و الطبراني فى الكبير: 5528»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 823 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ‏:‏ لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمَّيْتُهُ‏:‏ حَرْبًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ‏: ”أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ‏؟“‏ قُلْنَا‏:‏ حَرْبًا، قَالَ‏: ”بَلْ هُوَ حَسَنٌ‏.‏“ فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ‏: ”أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ‏؟“‏ قُلْنَا‏:‏ حَرْبًا، قَالَ‏: ”بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ‏.“‏ فَلَمَّا وُلِدَ الثَّالِثُ سَمَّيْتُهُ‏:‏ حَرْبًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ‏: ”أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ‏؟“‏ قُلْنَا‏:‏ حَرْبًا، قَالَ‏: ”بَلْ هُوَ مُحْسِنٌ“، ثُمَّ قَالَ‏: ”إِنِّي سَمَّيْتُهُمْ بِأَسْمَاءِ وَلَدِ هَارُونَ‏:‏ شِبْرٌ، وَشَبِيرٌ، وَمُشَبِّرٌ‏.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو میں نے ان کا نام حرب رکھا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے میرا بیٹا دکھاؤ، تم نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ ہم نے کہا: حرب۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ وہ تو حسن ہے۔ پھر جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام حرب رکھا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے میرا بیٹا دکھاؤ، تم نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ ہم نے کہا: حرب نام رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ اس کا نام حسین ہے۔ جب تیسرا بیٹا پیدا ہوا تو اس کا نام میں نے حرب رکھا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا: مجھے میرا بیٹا دکھاؤ، اس کا نام تم نے کیا رکھا ہے؟ ہم نے کہا: حرب۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اس کا نام محسن ہے۔ پھر فرمایا: میں نے ان کے نام ہارون علیہ السلام کے بیٹوں کے نام پر رکھے ہیں۔ ان کے نام شبر، شبیر اور مشبر تھے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الأسْمَاءِ/حدیث: 823]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه أحمد: 769 و ابن حبان: 6958 و الطبراني فى الكبير: 2773 و الحاكم: 168/3 - الضعيفة: 3706»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف