بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ابوالحکم کنیت رکھنے کی ممانعت
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب الأسماء ابوالحکم کنیت رکھنے کی ممانعت
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 811 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ الْحَارِثِيُّ، عَنْ أَبِيهِ الْمِقْدَامِ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي هَانِئُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ لَمَّا وَفَدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ قَوْمِهِ، فَسَمِعَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يُكَنُّونَهُ بِأَبِي الْحَكَمِ، فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ‏:‏ ”إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَكَمُ، وَإِلَيْهِ الْحُكْمُ، فَلِمَ تَكَنَّيْتَ بِأَبِي الْحَكَمِ‏؟‏“ قَالَ‏: لَا، وَلَكِنَّ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَتَوْنِي فَحَكَمْتُ بَيْنَهُمْ، فَرَضِيَ كِلاَ الْفَرِيقَيْنِ، قَالَ‏: ”مَا أَحْسَنَ هَذَا“، ثُمَّ قَالَ‏: ”مَا لَكَ مِنَ الْوَلَدِ‏؟“‏ قُلْتُ‏:‏ لِي شُرَيْحٌ، وَعَبْدُ اللهِ، وَمُسْلِمٌ، بَنُو هَانِئٍ، قَالَ‏: ”فَمَنْ أَكْبَرُهُمْ‏؟“‏ قُلْتُ‏:‏ شُرَيْحٌ، قَالَ‏: ”فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ“، وَدَعَا لَهُ وَوَلَدِهِ‏.
وَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا يُسَمُّونَ رَجُلا مِنْهُمْ: عَبْدَ الْحَجَرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”مَا اسْمُكَ؟“، قَالَ: عَبْدُ الْحَجَرِ، قَالَ: ”لَا، أَنْتَ عَبْدُ اللَّهِ“.
قَالَ شُرَيْحٌ: وَإِنَّ هَانِئًا لَمَّا حَضَرَ رُجُوعُهُ إِلَى بِلادِهِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي بِأَيِّ شَيْءٍ يُوجِبُ لِيَ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: ”عَلَيْكَ بِحُسْنِ الْكَلامِ، وَبَذْلِ الطَّعَامِ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ہانی بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ اپنی قوم کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے سنا کہ وہ مجھے ابو الحکم کہہ کر بلاتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: حکم تو صرف اللہ ہے اور حکم بھی اسی کا ہے۔ پھر تم نے کنیت ابو الحکم کیوں رکھی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، لیکن اصل بات یہ ہے کہ میری قوم میں جب کسی معاملے میں اختلاف ہو جاتا ہے تو وہ میرے پاس آتے ہیں اور میں ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہوں جس سے دونوں گروہ راضی ہو جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو اچھی بات ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تیرے کتنے بچے ہیں؟ میں نے عرض کیا: میرے تین بیٹے شریح، عبداللہ اور مسلم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ان میں سے بڑا کون ہے؟ میں نے کہا: شریح۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تب تم ابو شریح ہو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے لیے اور اس کے بچوں کے لیے بھی دعا فرمائی۔
اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ لوگوں سے سنا کہ وہ اپنے ایک آدمی کو عبدالحجر کہہ کر بلا رہے ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: عبدالحجر، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تم عبداللہ ہو۔
شریح کہتے ہیں کہ میرے والد ہانی کا وطن لوٹنے کا پروگرام بنا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: مجھے وہ چیز بتائیں جو میرے لیے جنت کو واجب کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اچھی گفتگو اور کثرت سے کھانا کھلانے کو لازم پکڑو۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الأسْمَاءِ/حدیث: 811]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أبوداؤد، كتاب الأدب: 4955 و النسائي، آداب القضاة: 5389 و فى الكبرىٰ: 5940 و صححه ابن حبان: 1957 و رواه الحاكم: 23/1»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح