بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ہدیہ دینے والے سے ناگواری ہو جائے تو ہدیہ قبول نہ کرنا جائز ہے
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب ہدیہ دینے والے سے ناگواری ہو جائے تو ہدیہ قبول نہ کرنا جائز ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 596 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ أَهْدَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً، فَعَوَّضَهُ، فَتَسَخَّطَهُ، فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ‏:‏ ”يَهْدِي أَحَدُهُمْ فَأُعَوِّضُهُ بِقَدْرِ مَا عِنْدِي، ثُمَّ يَسْخَطُهُ وَايْمُ اللهِ، لاَ أَقْبَلُ بَعْدَ عَامِي هَذَا مِنَ الْعَرَبِ هَدِيَّةً إِلاَّ مِنْ قُرَشِيٍّ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ، أَوْ ثَقَفِيٍّ، أَوْ دَوْسِيٍّ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بنو فزارہ کے ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک اونٹنی کا تحفہ دیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بدلے میں تحفہ دیا تو وہ ناراض ہو گیا (کہ یہ کم ہے)۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو برسر منبر فرماتے ہوئے سنا: لوگ مجھے ہدیہ دیتے ہیں اور میں اپنی استطاعت کے مطابق اس کا بدلہ دیتا ہوں، پھر بھی وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ اللہ کی قسم اس سال کے بعد میں کسی قریشی، انصاری، ثقفی یا دوسی کے سوا عرب میں سے کسی کا ہدیہ قبول نہیں کروں گا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 596]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه الترمذي، كتاب المناقب، باب فى ثقيف، و بني حنيفة: 3946 و أبوداؤد: 3537 و النسائي: 3759، مختصرًا - انظر الصحيحة: 1684»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح