بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اکھڑ پین کی مذمت
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب الرفق اکھڑ پین کی مذمت
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 475 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ‏:‏ كُنْتُ عَلَى بَعِيرٍ فِيهِ صُعُوبَةٌ، فَجَعَلْتُ أَضْرِبُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ، فَإِنَّ الرِّفْقَ لاَ يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلاَّ زَانَهُ، وَلاَ يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلا شَانَهُ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں ایک ضدی اونٹ پر سوار تھی تو میں نے اسے مارنا شروع کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نرمی کرو، نرمی جس چیز میں بھی ہو اس کو خوبصورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز سے چھین لی جائے اسے بدنما بنا دیتی ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الرِّفْقِ/حدیث: 475]
تخریج الحدیث
«صحيح: انظر الحديث، رقم: 469»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 476 الادب المفرد
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ‏:‏ قَالَ رَجُلٌ مِنَّا يُقَالُ لَهُ‏:‏ جَابِرٌ أَوْ جُوَيْبِرٌ‏:‏ طَلَبْتُ حَاجَةً إِلَى عُمَرَ فِي خِلاَفَتِهِ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ لَيْلاً، فَغَدَوْتُ عَلَيْهِ، وَقَدْ أُعْطِيتُ فِطْنَةً وَلِسَانًا، أَوْ قَالَ‏:‏ مِنْطَقًا، فَأَخَذْتُ فِي الدُّنْيَا فَصَغَّرْتُهَا، فَتَرَكْتُهَا لاَ تَسْوَى شَيْئًا، وَإِلَى جَنْبِهِ رَجُلٌ أَبْيَضُ الشَّعْرِ أَبْيَضُ الثِّيَابِ، فَقَالَ لَمَّا فَرَغْتُ‏:‏ كُلُّ قَوْلِكَ كَانَ مُقَارِبًا، إِلاَّ وَقُوعَكَ فِي الدُّنْيَا، وَهَلْ تَدْرِي مَا الدُّنْيَا‏؟‏ إِنَّ الدُّنْيَا فِيهَا بَلاَغُنَا، أَوْ قَالَ‏:‏ زَادُنَا، إِلَى الْآخِرَةِ، وَفِيهَا أَعْمَالُنَا الَّتِي نُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ، قَالَ‏:‏ فَأَخَذَ فِي الدُّنْيَا رَجُلٌ هُوَ أَعْلَمُ بِهَا مِنِّي، فَقُلْتُ‏:‏ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي إِلَى جَنْبِكَ‏؟‏ قَالَ‏:‏ سَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
ابو نضرہ سے روایت ہے کہ ہمارے قبیلے کا ایک آدمی تھا جسے جابر یا جویبر کہا جاتا تھا۔ اس نے بتایا کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ایک ضرورت کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں رات کے وقت مدینہ پہنچا اور صبح ہوئی تو ان کے پاس گیا۔ میں ذہین آدمی تھا اور بولنے کا سلیقہ بھی تھا۔ میں نے دنیا کی تحقیر اور برائی بیان کرنا شروع کی اور یہ ثابت کر دیا کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ ان کے پہلو میں ایک سفید ریش سفید پوشاک پہنے موجود تھا۔ جب میں بات کر کے فارغ ہوا تو اس نے کہا: تیری ساری باتیں ٹھیک ہیں، البتہ دنیا کی مذمت والی بات محل نظر ہے۔ تمہیں معلوم ہے دنیا کیا ہے؟ دنیا ہی میں آخرت تک پہنچنے کا سامان ہے۔ اسی میں ہمارے وہ اعمال ہیں جن کا آخرت میں بدلہ ملے گا۔ مجھ سے دنیا کا زیادہ علم رکھنے والے صاحب نے اس کے بارے میں گفتگو کی تو میں نے عرض کیا: امیر المؤمنین! یہ کون ہیں جو آپ کے پہلو میں تشریف فرما ہیں؟ انہوں نے کہا: مسلمانوں کے سردار سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الرِّفْقِ/حدیث: 476]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه ابن سعد فى الطبقات: 378/3، 379 و أبونعيم فى معرفة الصحابة: 736 و المستدرك: 304/3، 305»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 477 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا قِنَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ النَّهْمِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”الأَشَرَةُ شَرٌّ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: شیخی بگھارنا نہایت برا کام ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الرِّفْقِ/حدیث: 477]
تخریج الحدیث
«حسن: أخرجه أحمد: 1835 و أبويعلي: 1687 - انظر الصحيحة: 1493»
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن