بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
زندگی گزارنے میں سادگی اختیار کرنا
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب الرفق زندگی گزارنے میں سادگی اختیار کرنا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 471 الادب المفرد
حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ‏:‏ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ‏:‏ أَمْسِكْ حَتَّى أَخِيطَ نَقْبَتِي فَأَمْسَكْتُ فَقُلْتُ‏:‏ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ خَرَجْتُ فَأَخْبَرْتُهُمْ لَعَدُّوهُ مِنْكِ بُخْلاً، قَالَتْ‏:‏ أَبْصِرْ شَأْنَكَ، إِنَّهُ لاَ جَدِيدَ لِمَنْ لاَ يَلْبَسُ الْخَلَقَ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
کثیر بن عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا: ذرا ٹھہرو میں اپنا پائجامہ سی لوں۔ کثیر بن عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ٹھہر گیا اور کہا: ام المؤمنین! اگر میں باہر جا کر بتاؤں کہ آپ پرانا کپڑا سی رہی ہیں تو لوگ اسے آپ کی کنجوسی میں شمار کریں گے۔ انہوں نے فرمایا: سمجھ کر بات کرو، بات یہ ہے کہ جو پرانا کپڑا نہ پہنے اس کا نئے کپڑے میں کوئی حق نہیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الرِّفْقِ/حدیث: 471]
تخریج الحدیث
«حسن: أخرجه المصنف فى التاريخ الكبير: 207/7 و ابن أبى الدنيا فى إصلاح المال: 399»
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن