بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بالا خانے بنانے کا جواز
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب السرف فى البناء بالا خانے بنانے کا جواز
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 458 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ نِبْرَاسٍ أَبُو الْحَسَنِ، عَنْ ثَابِتٍ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَنَسٍ بِالزَّاوِيَةِ فَوْقَ غُرْفَةٍ لَهُ، فَسَمِعَ الأَذَانَ، فَنَزَلَ وَنَزَلْتُ، فَقَارَبَ فِي الْخُطَا فَقَالَ‏:‏ كُنْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَمَشَى بِي هَذِهِ الْمِشْيَةَ وَقَالَ‏:‏ أَتَدْرِي لِمَ فَعَلْتُ بِكَ‏؟‏ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشَى بِي هَذِهِ الْمِشْيَةَ وَقَالَ‏:‏ ”أَتَدْرِي لِمَ مَشَيْتُ بِكَ‏؟“‏ قُلْتُ‏:‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ‏:‏ ”لِيَكْثُرَ عَدَدُ خُطَانَا فِي طَلَبِ الصَّلاةِ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
ثابت رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ زاویہ میں (جہاں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا محل تھا) ان کے بالا خانے میں تھا تو انہوں نے اذان سنی اور وہ نیچے اترے اور میں بھی اترا۔ انہوں نے چلتے ہوئے نزدیک نزدیک قدم رکھے اور کہا: میں سیدنا زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا تو وہ بھی میرے ساتھ اسی طرح چھوٹے قدموں کے ساتھ چلے اور کہا: تم جانتے ہو میں تیرے ساتھ اس طرح کیوں چلا ہوں؟ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے ساتھ ایسی ہی رفتار سے چلے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم جانتے ہو میں تیرے ساتھ اس رفتار سے کیوں چلا ہوں؟ میں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تاکہ نماز کی طلب میں ہمارے قدموں کی گنتی زیادہ ہو۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّرَفِ فِي الْبِنَاءِ/حدیث: 458]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه ابن أبى شيبة: 107/1 و الطبراني فى الكبير: 117/5، 118 و عبد بن حميد: 256 - انظر الضعيفة: 6816»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف