بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تعمیرات میں مقابلہ بازی کی مذمت
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب السرف فى البناء تعمیرات میں مقابلہ بازی کی مذمت
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 449 الادب المفرد
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَطَاوَلَ النَّاسُ فِي الْبُنْيَانِ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ لوگ عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ بازی کریں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّرَفِ فِي الْبِنَاءِ/حدیث: 449]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الفتن: 7121 - انظر الإرواء: 3/32/1»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 450 الادب المفرد
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حُرَيْثُ بْنُ السَّائِبِ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ‏:‏ كُنْتُ أَدْخُلُ بُيُوتَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خِلاَفَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَأَتَنَاوَلُ سُقُفَهَا بِيَدِي‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں میں جاتا تھا تو بآسانی اپنے ہاتھ سے چھت کو چھو لیتا تھا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّرَفِ فِي الْبِنَاءِ/حدیث: 450]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه ابن أبى الدنيا فى قصر الأمل: 245 و أبوداؤد فى المراسيل: 297 و ابن سعد فى الطبقات: 388/1 و البيهقي فى شعب الإيمان: 10734»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 451 الادب المفرد
وَبِالسَّنَدِ عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ‏:‏ رَأَيْتُ الْحُجُرَاتِ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ مَغْشِيًّا مِنْ خَارِجٍ بِمُسُوحِ الشَّعْرِ، وَأَظُنُّ عَرْضَ الْبَيْتِ مِنْ بَابِ الْحُجْرَةِ إِلَى بَابِ الْبَيْتِ نَحْوًا مِنْ سِتِّ أَوْ سَبْعِ أَذْرُعٍ، وَأَحْزِرُ الْبَيْتَ الدَّاخِلَ عَشْرَ أَذْرُعٍ، وَأَظُنُّ سُمْكَهُ بَيْنَ الثَّمَانِ وَالسَّبْعِ نَحْوَ ذَلِكَ، وَوَقَفْتُ عِنْدَ بَابِ عَائِشَةَ فَإِذَا هُوَ مُسْتَقْبِلٌ الْمَغْرِبَ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
داؤد بن قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ازواج مطہرات کے حجرے دیکھے جو کھجور کی ٹہنیوں کے تھے۔ باہر سے انہیں بالوں کے ٹاٹ سے ڈھانکا ہوا تھا۔ میرا خیال ہے کہ گھر کی چوڑائی حجرے کے دروازے سے لے کر دوسرے گھر کے دروازے تک تقریباً چھ سات ہاتھ تھی۔ اندر سے گھر کا اندازہ لگایا تو دس ہاتھ تھا۔ اس کی چھت آٹھ یا سات ہاتھ کے قریب تھی۔ اور میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر کھڑا ہوا تو میں نے دیکھا کہ وہ مغرب کی طرف تھا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّرَفِ فِي الْبِنَاءِ/حدیث: 451]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه ابن أبى الدنيا فى قصر الأمل: 244 و أبوداؤد فى المراسيل: 496 و البيهقي فى شعب الإيمان: 10735»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 452 الادب المفرد
وَبِالسَّنَدِ عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الرُّومِيِّ قَالَ‏:‏ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ طَلْقٍ فَقُلْتُ‏:‏ مَا أَقْصَرَ سَقْفَ بَيْتِكِ هَذَا‏؟‏ قَالَتْ‏:‏ يَا بُنَيَّ إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ‏:‏ أَنْ لاَ تُطِيلُوا بِنَاءَكُمْ، فَإِنَّهُ مِنْ شَرِّ أَيَّامِكُمْ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
عبداللہ رومی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں ام طلق رحمہا اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان سے کہا: آپ کے اس گھر کی چھت کتنی نیچی ہے؟ انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے وزراء کو لکھا کہ لمبی چوڑی عمارتیں مت بنانا کیونکہ یہ تمہارے بدترین دن ہوں گے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّرَفِ فِي الْبِنَاءِ/حدیث: 452]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه ابن أبى الدنيا فى قصر الأمل: 283 و ابن سعد فى الطبقات: 486/8»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف