بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
قطع تعلقی ختم کرنے کے لیے سلام کافی ہے
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب قطع تعلقی ختم کرنے کے لیے سلام کافی ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 414 الادب المفرد
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ هِلاَلِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ مَوْلَى ابْنِ كَعْبٍ الْمَذْحِجِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَهْجُرَ مُؤْمِنًا فَوْقَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ، فَإِذَا مَرَّتْ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ فَلْيَلْقَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَإِنْ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ فَقَدِ اشْتَرَكَا فِي الأَجْرِ، وَإِنْ لَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ فَقَدْ بَرِئ الْمُسْلِمُ مِنَ الْهِجْرَةِ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مومن بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ جب تین دن گزر جائیں تو اسے چاہیے کہ اس سے ملاقات کرے اور سلام کہے۔ اگر وہ سلام کا جواب دے دے تو اجر و ثواب میں دونوں شریک ہو گئے اور اگر وہ جواب نہ دے تو سلام کہنے والا قطع تعلقی کے گناہ سے بری ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 414]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه أبوداؤد، كتاب الأدب، باب فيمن يهجر أخاه المسلم: 4912 - الإرواء: 94/7»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف