حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى ابْنًا لأَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ: أَبُو عُمَيْرٍ، وَكَانَ لَهُ نُغَيْرٌ يَلْعَبُ بِهِ، فَقَالَ: ”يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ أَوْ، أَيْنَ، النُّغَيْرُ؟.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر) داخل ہوئے تو سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے کو (پریشان) دیکھا جسے ابو عمیر کہا جاتا ہے۔ ان کی ایک چڑیا تھی جس کے ساتھ وہ کھیلا کرتے تھے۔ (وہ مر گئی) تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ابو عمیر! تیری چڑیا کا کیا بنا؟ یا وہ کہاں گئی؟“ [الادب المفرد/كِتَابُ رَحْمَةِ/حدیث: 384]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب، باب الكنية للصبي ..............: 6129، 6203 و مسلم: 2150 و أبوداؤد: 4969 و الترمذي: 333 و ابن ماجه: 3720»
الحكم: صحيح