حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ مَنْزِلاً فَأَخَذَ رَجُلٌ بَيْضَ حُمَّرَةٍ، فَجَاءَتْ تَرِفُّ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ”أَيُّكُمْ فَجَعَ هَذِهِ بِبَيْضَتِهَا؟“ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا أَخَذْتُ بَيْضَتَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”ارْدُدْ، رَحْمَةً لَهَا.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو کسی آدمی نے ایک فاختہ کے انڈے اٹھا لیے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر پر آ کر پھڑپھڑانے لگی، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اس کے انڈوں کی وجہ سے کس نے پریشان کیا ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کے انڈے اٹھائے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر رحمت و ترس کھاتے ہوئے وہ انڈے واپس رکھ دو۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ رَحْمَةِ/حدیث: 382]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أبوداؤد، كتاب الجهاد، باب فى كراهية حرق العدو بالنار: 2675 - انظر الصحيحة: 25»
الحكم: صحيح