بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
چھوٹے بچے کو اپنا بیٹا کہہ کر بلانا
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب الصغير چھوٹے بچے کو اپنا بیٹا کہہ کر بلانا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 369 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْعَجْلاَنِ الْمُحَارِبِيِّ قَالَ‏:‏ كُنْتُ فِي جَيْشِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَتُوُفِّيَ ابْنُ عَمٍّ لِي، وَأَوْصَى بِجَمَلٍ لَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَقُلْتُ لِابْنِهِ‏:‏ ادْفَعْ إِلَيَّ الْجَمَلَ، فَإِنِّي فِي جَيْشِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ‏:‏ اذْهَبْ بِنَا إِلَى ابْنِ عُمَرَ حَتَّى نَسْأَلَهُ، فَأَتَيْنَا ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ‏:‏ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ وَالِدِي تُوُفِّيَ، وَأَوْصَى بِجَمَلٍ لَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَهَذَا ابْنُ عَمِّي، وَهُوَ فِي جَيْشِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، أَفَأَدْفَعُ إِلَيْهِ الْجَمَلَ‏؟‏ قَالَ ابْنُ عُمَرَ‏:‏ يَا بُنَيَّ، إِنَّ سَبِيلَ اللهِ كُلُّ عَمَلٍ صَالِحٍ، فَإِنْ كَانَ وَالِدُكَ إِنَّمَا أَوْصَى بِجَمَلِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا رَأَيْتَ قَوْمًا مُسْلِمِينَ يَغْزُونَ قَوْمًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَادْفَعْ إِلَيْهِمُ الْجَمَلَ، فَإِنْ هَذَا وَأَصْحَابَهُ فِي سَبِيلِ غِلْمَانِ قَوْمٍ أَيُّهُمْ يَضَعُ الطَّابَعَ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
ابو العجلان محاربی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے لشکر میں تھا کہ میرا ایک چچا زاد فوت ہو گیا اور اس کا ایک اونٹ تھا جس کے بارے میں وصیت کر گیا کہ یہ اللہ کی راہ میں دے دینا۔ میں نے اس کے بیٹے سے کہا: وہ اونٹ مجھے دے دو کیونکہ میں سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی فوج میں ہوں۔ اس نے کہا: ہمیں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس لے جاؤ تاکہ مسئلہ دریافت کریں۔ ہم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور اس نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! میرا باپ فوت ہو گیا ہے اور ایک اونٹ اللہ کی راہ میں وقف کر گیا ہے، اور یہ میرا چچا زاد سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی فوج میں ہے۔ کیا یہ اونٹ میں اسے دے سکتا ہوں؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اے بیٹے! بلاشبہ ہر عمل صالح اللہ کی راہ ہے۔ اگر تیرے والد نے یہ اونٹ صرف اللہ عزوجل کی راہ میں دینے کی وصیت کی ہے تو جب تم دیکھو کہ مسلمانوں کی کوئی جماعت مشرکین سے برسر پیکار ہے تو انہیں وہ اونٹ دے دینا۔ یہ صاحب اور اس کے ساتھی تو اپنے لڑکوں کے راستے میں جنگ کر رہے ہیں جن میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ اس کا حکم نافذ ہو۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الصَّغِيرِ/حدیث: 369]
تخریج الحدیث
«حسن: أخرجه أبو إسحاق الفزاري فى السيد، ص: 137»
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 370 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ جَرِيرًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”مَنْ لاَ يَرْحَمِ النَّاسَ لاَ يَرْحَمْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ عزوجل اس پر رحم نہیں کرتا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الصَّغِيرِ/حدیث: 370]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب التوحيد: 7376 و مسلم كتاب الفضائل، رقم: 2319»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 371 الادب المفرد
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ قَبِيصَةَ بْنَ جَابِرٍ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ‏:‏ مَنْ لاَ يَرْحَمُ لاَ يُرْحَمُ، وَلاَ يُغْفَرُ مَنْ لاَ يَغْفِرُ، وَلاَ يُعْفَ عَمَّنْ لَمْ يَعْفُ، وَلاَ يُوقَّ مَنْ لا يَتَوَقَّ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا، اور جو معاف نہیں کرتا اسے معاف نہیں کیا جاتا، اور اس سے درگز نہیں کیا جاتا جو دوسروں سے درگز نہیں کرتا، اور جو گناہ سے بچنے کی کوشش نہیں کرتا اسے گناہ سے نہیں بچایا جاتا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الصَّغِيرِ/حدیث: 371]
تخریج الحدیث
«حسن: أخرجه أبوداؤد فى الزهد: 82 و الضبي فى الدعاء: 147 - انظر الصحيحة: 483»
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن