حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ لِي صَوَاحِبُ يَلْعَبْنَ مَعِي، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ يَنْقَمِعْنَ مِنْهُ، فَيُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ، فَيَلْعَبْنَ مَعِي.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاں (نکاح کے بعد) گڑیوں کے ساتھ کھیلا کرتی اور میری کئی سہیلیاں بھی میرے ساتھ کھیلتی تھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لاتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حیا کی وجہ سے ادھر ادھر بھاگ جاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں میرے پاس بھجوا دیتے، چنانچہ وہ پھر میرے ساتھ کھیلنے لگتیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الصَّغِيرِ/حدیث: 368]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب، باب الانبساط إلى الناس: 6130 و مسلم: 2440 و أبوداؤد: 4931 و ابن ماجه: 1982»
الحكم: صحيح