بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
شعروں میں مدح سرائی کرنے کا حکم
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب شعروں میں مدح سرائی کرنے کا حکم
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 342 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ قَالَ‏:‏ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ مَدَحْتُ اللَّهَ بِمَحَامِدَ وَمِدَحٍ، وَإِيَّاكَ‏.‏ فَقَالَ‏:‏ ”أَمَا إِنَّ رَبَّكَ يُحِبُّ الْحَمْدَ“، فَجَعَلْتُ أُنْشِدُهُ، فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ طُوَالٌ أَصْلَعُ، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”اسْكُتْ“، فَدَخَلَ، فَتَكَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ خَرَجَ، فَأَنْشَدْتُهُ، ثُمَّ جَاءَ فَسَكَّتَنِي، ثُمَّ خَرَجَ، فَعَلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا، فَقُلْتُ‏:‏ مَنْ هَذَا الَّذِي سَكَّتَّنِي لَهُ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”هَذَا رَجُلٌ لاَ يُحِبُّ الْبَاطِلَ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اللہ تعالیٰ کی مختلف انداز میں حمد بیان کی ہے اور آپ کی تعریف بھی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ تیرا رب تو حمد کو پسند فرماتا ہے۔ میں نے اشعار پڑھنے شروع کیے تو ایک دراز قد گنجے شخص نے اجازت طلب کی۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: خاموش ہو جاؤ۔ چنانچہ وہ اندر آیا اور تھوڑی دیر گفتگو کرنے کے بعد چلا گیا، تو میں نے دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اشعار سنائے۔ پھر وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے چپ کرا دیا۔ پھر وہ چلا گیا۔ دو یا تین مرتبہ وہ اندر آیا اور باہر گیا۔ میں نے عرض کیا: یہ کون شخص تھا جس کی خاطر آپ نے مجھے خاموشی اختیار کرنے کا حکم دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ آدمی ہے جو باطل کو پسند نہیں کرتا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 342]
تخریج الحدیث
«ضعيف بهذا التمام و صح مختصرًا: أخرجه أحمد: 15585 و الطبراني فى الكبير: 287/1 و أبونعيم فى الحلية: 46/1 و الحاكم: 615/3 و الطحاوي فى شرح المعاني: 372/2 - انظر الصحيحة: 3179»
قال الشيخ الألباني
ضعيف بهذا التمام و صح مختصرًا
الحكم: ضعيف بهذا التمام و صح مختصرًا