بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جس کے فتنے میں پڑنے کا ڈر نہ ہو اس کی تعریف کرنی جائز ہے
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب جس کے فتنے میں پڑنے کا ڈر نہ ہو اس کی تعریف کرنی جائز ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 337 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو بَكْرٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ عُمَرُ، نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو عُبَيْدَةَ، نِعْمَ الرَّجُلُ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ“، قَالَ‏:‏ ”وَبِئْسَ الرَّجُلُ فُلاَنٌ، وَبِئْسَ الرَّجُلُ فُلاَنٌ“ حَتَّى عَدَّ سَبْعَةً‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اچھے آدمی ہیں ابو بکر، اچھے آدمی ہیں عمر، ابو عبیدہ اچھے آدمی ہیں، اسید بن حضیر اچھے آدمی ہیں، ثابت بن قیس بن شماس اچھے آدمی ہیں، معاذ بن عمرو بن جموح اچھے آدمی ہیں، اور معاذ بن جبل اچھے آدمی ہیں۔ اور فرمایا: برا آدمی ہے فلاں شخص اور برا آدمی ہے فلاں شخص۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سات آدمی شمار فرمائے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 337]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه الترمذي: 3795، مختصرًا منه على المدح، و أخرجه بتمامه الحاكم: 259/3 و ابن حبان: 6997 - انظر الصحيحة: 875»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 338 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتِ‏:‏ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ“، فَلَمَّا دَخَلَ هَشَّ لَهُ وَانْبَسَطَ إِلَيْهِ، فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلُ اسْتَأْذَنَ آخَرُ، قَالَ‏:‏ ”نِعْمَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ“، فَلَمَّا دَخَلَ لَمْ يَنْبَسِطْ إِلَيْهِ كَمَا انْبَسَطَ إِلَى الْآخَرِ، وَلَمْ يَهِشَّ إِلَيْهِ كَمَا هَشَّ لِلْآخَرِ، فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، قُلْتُ لِفُلاَنٍ مَا قُلْتَ ثُمَّ هَشَشْتَ إِلَيْهِ، وَقُلْتَ لِفُلاَنٍ مَا قُلْتَ وَلَمْ أَرَكَ صَنَعْتَ مِثْلَهُ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”يَا عَائِشَةُ، إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ مَنِ اتُّقِيَ لِفُحْشِهِ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آنے والا قبیلے کا برا فرد ہے۔ لیکن جب وہ داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے بڑے تپاک اور خندہ پیشانی سے ملے۔ جب وہ چلا گیا تو ایک دوسرے شخص نے اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قبیلے کا اچھا آدمی آیا ہے۔ جب وہ داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سے پہلے شخص کی طرح خوشی سے نہ ملے، اور نہ اس طرح تپاک سے اس کا استقبال کیا۔ جب وہ چلا گیا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے فلاں کو یہ یہ کہا اور پھر اسے تپاک سے ملے بھی اور فلاں کی آپ نے اچھی تعریف کی لیکن اس کے ساتھ اس طرح تپاک سے پیش نہیں آئے جس طرح پہلے سے ملے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! لوگوں میں سے بدترین وہ ہے کہ جس کے فحش سے بچنے کے لیے اس کی تکریم کی جائے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 338]
تخریج الحدیث
«ضعيف دون قصة الرجل الأول فإنها صحيحة مع قوله (يا عائشة): أخرجه أحمد: 25254 و ابن وهب فى الجامع: 437 و القضاعي فى مسنده: 1124، و سيأتي: 1311 و انظر الصحيحة: 1049»
قال الشيخ الألباني
ضعيف دون قصة الرجل الأول فإنها صحيحة مع قوله (يا عائشة)
الحكم: ضعيف دون قصة الرجل الأول فإنها صحيحة مع قوله (يا عائشة)