بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جو اپنے غلام پر لعنت کرے تو اس کو آزاد کر دے
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب جو اپنے غلام پر لعنت کرے تو اس کو آزاد کر دے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 319 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ لَعَنَ بَعْضَ رَقِيقِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”يَا أَبَا بَكْرٍ، اللَّعَّانِينَ وَالصِّدِّيقِينَ‏؟‏ كَلاَّ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ“، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا، فَأَعْتَقَ أَبُو بَكْرٍ يَوْمَئِذٍ بَعْضَ رَقِيقِهِ، ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ‏:‏ لا أَعُودُ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے کسی غلام پر لعنت کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر! کیا صدیق بھی لعنت کرتا ہے؟ ہرگز نہیں رب کعبہ کی قسم۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بات دو یا تین بار دہرائی۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس دن اپنے کئی غلام آزاد کر دیے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: دوبارہ میں کبھی لعنت نہیں کروں گا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 319]
تخریج الحدیث
«صحيح: الترغيب: 286/3 - أخرجه البيهقي فى شعب الإيمان: 5154»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح