حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ يَضْحَكُونَ وَيَتَحَدَّثُونَ، فَقَالَ: ”وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا“، ثُمَّ انْصَرَفَ وَأَبْكَى الْقَوْمَ، وَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ: ”يَا مُحَمَّدُ، لِمَ تُقَنِّطُ عِبَادِي؟“، فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ”أَبْشِرُوا، وَسَدِّدُوا، وَقَارِبُوا.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے پاس تشریف لائے جو ہنس رہے تھے اور باتیں کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے تھوڑا اور روتے زیادہ۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس تشریف لے گئے اور لوگوں کو رلا دیا اور اللہ عزوجل نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف وحی کی: ”اے محمد! آپ میرے بندوں کو مایوس کیوں کرتے ہیں؟“ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس تشریف لائے اور فرمایا: ”خوش ہو جاؤ، استقامت اختیار کرو، اور عمل کو صحیح کرنے کی کوشش کرو۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ الِانْبِسَاطِ إِلَى النَّاسِ/حدیث: 254]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أحمد: 10029 و ابن المبارك فى الزهد: 312/1 و ابن حبان: 113 و البيهقي فى الشعب: 343/2 - الصحيحة: 3194»
الحكم: صحيح