بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
لوگوں سے درگزر کرنے کا بیان
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب الانبساط إلى الناس لوگوں سے درگزر کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 243 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا، فَجِيءَ بِهَا، فَقِيلَ‏:‏ أَلاَ نَقْتُلُهَا‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”لَا“، قَالَ‏:‏ فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت زہر آلود بھنی ہوئی بکری نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لائی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں سے کھا لیا۔ پھر اس عورت کو لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا گیا: کیا ہم اس کو قتل نہ کر دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں! سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حلق میں مسلسل زہر کے اثرات دیکھتا رہا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الِانْبِسَاطِ إِلَى النَّاسِ/حدیث: 243]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الهية و فضلها و التحريض عليها: 2617 و مسلم: 2190 و أبوداؤد: 4508 - الصحيحة: 6441»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 244 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ‏: ‏ ﴿خُذِ الْعَفْوَ ‏ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾ [الأعراف: 199] ، قَالَ‏:‏ وَاللَّهِ مَا أَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤْخَذَ إِلاَّ مِنْ أَخْلاَقِ النَّاسِ، وَاللَّهِ لَآخُذَنَّهَا مِنْهُمْ مَا صَحِبْتُهُمْ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
وہب بن کیسان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے منبر پر یہ آیت پڑھی: « ﴿خُذِ الْعَفْوَ ‏ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾ » [الأعراف: 199] عفو و درگزر سے کام لیں اور نیکی کا حکم دیں اور جاہلوں سے اعراض کریں۔ پھر فرمایا: اللہ کی قسم یہ آیت لوگوں کے اخلاق کے متعلق نازل ہوئی۔ اللہ کی قسم جب تک میرا لوگوں سے معاملہ رہے گا میں اس کے حکم کو ضرور لوں گا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الِانْبِسَاطِ إِلَى النَّاسِ/حدیث: 244]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب التفسير: 4643 و أبوداؤد: 4787»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 245 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”عَلِّمُوا وَيَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوا، وَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو سکھاؤ، آسانی کا برتاؤ کرو اور تنگی نہ کرو۔ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وہ خاموش ہو جائے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الِانْبِسَاطِ إِلَى النَّاسِ/حدیث: 245]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أحمد: 2136 و ابن أبى شيبة: 532/8 و الطيالسي: 2608 و الطبراني فى الكبير: 10951 - الصحيحة: 1375»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح