بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
عورت کے ذمہ دار ہونے کا بیان
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب عورت کے ذمہ دار ہونے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 214 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا سَالِمٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، الإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا، وَالْخَادِمُ فِي مَالِ سَيِّدِهِ“، سَمِعْتُ هَؤُلاَءِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَحْسَبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”وَالرَّجُلُ فِي مَالِ أَبِيهِ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داری کے متعلق باز پرس ہو گی۔ حاکم وقت ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہو گی۔ آدمی اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے، اور عورت اپنے خاوند کے گھر میں ذمہ دار ہے، اور خادم اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار ہے۔ میں نے یہ کلمات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنے ہیں، میرا خیال ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: اور آدمی اپنے باپ کے گھر میں ذمہ دار ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 214]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الاستقراض، باب العبد راع فى مال سيده و لا يعمل إلا باذنه: 2409 و مسلم: 1829»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح