بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
غلام کی ذمہ داری کا بیان
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب غلام کی ذمہ داری کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 206 الادب المفرد
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْؤولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ، وَهُوَ مَسْؤولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ، وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَعَبْدُ الرَّجُلِ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ، وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْهُ، أَلاَ كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے متعلق سوال ہوگا، چنانچہ حاکم جو لوگوں کا ذمہ دار ہے اس سے اس کی رعیت کے بارے میں باز پرس ہو گی، اور آدمی اپنے گھر والوں کا نگران ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے متعلق پوچھا جائے گا، اور کسی شخص کا غلام اپنے آقا کے مال پر نگران ہے اور اس سے اس کے متعلق باز پرس ہو گی۔ خبردار! تم سب ذمہ دار ہو اور سب سے ان کی ذمہ داری کے متعلق پوچھ گچھ ہو گی۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 206]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأحكام: 7138 و مسلم: 1829 و أبوداؤد: 2928»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 207 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ‏:‏ الْعَبْدُ إِذَا أَطَاعَ سَيِّدَهُ، فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا عَصَى سَيِّدَهُ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: غلام جب اپنے آقا کی اطاعت کرے تو اس نے گویا اللہ عزوجل کی اطاعت کی اور جب وہ اپنے آقا کی نافرمانی کرتا ہے تو اس نے گویا اللہ عزوجل کی نافرمانی کی۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 207]
تخریج الحدیث
«ضعيف:» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف