حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْؤولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ، وَهُوَ مَسْؤولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ، وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَعَبْدُ الرَّجُلِ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ، وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْهُ، أَلاَ كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے متعلق سوال ہوگا، چنانچہ حاکم جو لوگوں کا ذمہ دار ہے اس سے اس کی رعیت کے بارے میں باز پرس ہو گی، اور آدمی اپنے گھر والوں کا نگران ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے متعلق پوچھا جائے گا، اور کسی شخص کا غلام اپنے آقا کے مال پر نگران ہے اور اس سے اس کے متعلق باز پرس ہو گی۔ خبردار! تم سب ذمہ دار ہو اور سب سے ان کی ذمہ داری کے متعلق پوچھ گچھ ہو گی۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 206]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأحكام: 7138 و مسلم: 1829 و أبوداؤد: 2928»
الحكم: صحيح