بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جب غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے (تو اس کی فضیلت)؟
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب جب غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے (تو اس کی فضیلت)؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 202 الادب المفرد
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ، وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ، لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: غلام جب اپنے آقا کی خیرخواہی کرے اور اپنے رب کی عبادت بھی اچھے طریقے سے کرے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 202]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب العتق، باب العبد إذا أحسن عبادة ربه: 2546 و مسلم: 4408 و أبوداؤد: 5169 - الصحيحة: 1616»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 203 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا الْمُحَارِبِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَيٍّ قَالَ‏:‏ قَالَ رَجُلٌ لِعَامِرٍ الشَّعْبِيِّ‏:‏ يَا أَبَا عَمْرٍو، إِنَّا نَتَحَدَّثُ عِنْدَنَا أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا أَعْتَقَ أُمَّ وَلَدِهِ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا كَانَ كَالرَّاكِبِ بَدَنَتَهُ، فَقَالَ عَامِرٌ‏:‏ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ‏:‏ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”ثَلاَثَةٌ لَهُمْ أَجْرَانِ‏:‏ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ، وَآمَنَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَهُ أَجْرَانِ‏.‏ وَالْعَبْدُ الْمَمْلُوكُ إِذَا أَدَّى حَقَّ اللهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ‏.‏ وَرَجُلٌ كَانَتْ عِنْدَهُ أَمَةٌ يَطَأهَا، فَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا، وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا، فَلَهُ أَجْرَانِ“، قَالَ عَامِرٌ‏:‏ أَعْطَيْنَاكَهَا بِغَيْرِ شَيْءٍ، وَقَدْ كَانَ يَرْكَبُ فِيمَا دُونَهَا إِلَى الْمَدِينَةِ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
صالح بن حی سے روایت ہے کہ (خراسان کے) ایک آدمی نے امام شعبی رحمہ اللہ سے پوچھا: ابو عمرو! ہم آپس میں باتیں کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص ام ولد (لونڈی) کو آزاد کر کے اس سے نکاح کرے تو وہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی قربانی کے جانور پر سواری کرے۔ امام شعبی رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھے ابو بردہ نے اپنے والد (سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تین قسم کے لوگوں کے لیے دوہرا اجر ہے: ایک اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کا وہ شخص جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بھی ایمان لے آیا تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔ دوسرا وہ غلام جو کسی کی ملکیت ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرے اور اپنے آقاؤں کے حقوق بھی پورے کرے۔ اور تیسرا وہ شخص جس کے پاس کوئی لونڈی ہو جس سے وہ ہم بستری بھی کرتا ہو، اس نے اسے اچھا ادب سکھایا اور اچھی تعلیم دی، پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کر لیا اس کے لیے بھی دوہرا اجر ہے۔ امام شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم نے تمہیں یہ حدیث بغیر کسی دنیاوی معاوضے کے دے دی حالانکہ اس سے کم تر بات پوچھنے کے لیے بھی مدینہ طیبہ کا سفر کیا جاتا تھا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 203]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب العلم، باب تعليم الرجل أمته و أهله: 97 و مسلم: 145 و الترمذي: 1116 و النسائي: 1691 و ابن ماجة: 1956 - الصحيحة: 1153»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 204 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”الْمَمْلُوكُ الَّذِي يُحْسِنُ عِبَادَةَ رَبِّهِ، وَيُؤَدِّي إِلَى سَيِّدِهِ الَّذِي فُرِضَ، الطَّاعَةُ وَالنَّصِيحَةُ، لَهُ أَجْرَانِ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو غلام اپنے رب کی صحیح عبادت کرتا ہے، اور اپنے آقا کا جو حق اطاعت اور خیرخواہی اس پر ہے اسے بھی ذمہ داری سے پورا کرتا ہے، اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 204]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب العتق، باب كراهية التطاول على الرقيق: 2551»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 205 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”الْمَمْلُوكُ لَهُ أَجْرَانِ إِذَا أَدَّى حَقَّ اللهِ فِي عِبَادَتِهِ، أَوْ قَالَ‏:‏ فِي حُسْنِ عِبَادَتِهِ، وَحَقَّ مَلِيكِهِ الَّذِي يَمْلِكُهُ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: غلام کے لیے دوہرا اجر ہے جب اس نے اللہ کی اچھی طرح عبادت کر کے اس کا حق ادا کیا اور اپنے آقا کا حق بھی ادا کر دیا جس کا وہ غلام ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 205]
تخریج الحدیث
«صحيح: تقدم برقم: 203»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح