حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْعَبْسِيِّ قَالَ: مَاتَ ابْنٌ لِي، فَوَجَدْتُ عَلَيْهِ وَجَدَا شَدِيدًا، فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا تُسَخِّي بِهِ أَنْفُسَنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قَالَ: سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”صِغَارُكُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
خالد عبسی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرا ایک بیٹا فوت ہوا تو میں شدید غمزدہ ہوا، بالآخر میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کچھ نہیں سنا جس سے ہمیں فوت شدگان کے بارے میں سکون ملے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تمہارے چھوٹے بچے جنت کی تتلیاں ہیں۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 145]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه مسلم، البر و الصلة، باب فضل من يموت له: 2635 و أحمد: 10325 - الصحيحة: 431»
الحكم: صحيح