بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اس شخص کی فضیلت جس کا بچہ فوت ہو جائے
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب اس شخص کی فضیلت جس کا بچہ فوت ہو جائے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 9
حدیث نمبر: 143 الادب المفرد
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”لاَ يَمُوتُ لأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ، فَتَمَسَّهُ النَّارُ، إِلاَّ تَحِلَّةَ الْقَسَمِ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں (اور وہ صبر کرے) اسے آگ نہیں چھوئے گی، البتہ قسم پوری کرنے کے لیے (اسے آگ پر لایا جائے گا)۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 143]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، الايمان و النذور: 6656 و مسلم: 2632 و الترمذي: 1060 و النسائي: 1875 و ابن ماجه: 1603»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 144 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ فَقَالَتِ‏:‏ ادْعُ لَهُ، فَقَدْ دَفَنْتُ ثَلاَثَةً، فَقَالَ‏:‏ ”احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک بچہ لے کر آئی اور عرض کیا: (اللہ کے رسول!) اس کے لیے دعا فرمائیں، میرے تین بچے فوت ہو چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو نے آگ سے بہت بڑی رکاوٹ بنا لی ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 144]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه مسلم، البر و الصلة، باب فضل من يموت له ولد فيحتسبه: 2636 و النسائي: 1877 و ابن ماجه: 1603»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 145 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْعَبْسِيِّ قَالَ‏:‏ مَاتَ ابْنٌ لِي، فَوَجَدْتُ عَلَيْهِ وَجَدَا شَدِيدًا، فَقُلْتُ‏:‏ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا تُسَخِّي بِهِ أَنْفُسَنَا عَنْ مَوْتَانَا‏؟‏ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”صِغَارُكُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
خالد عبسی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرا ایک بیٹا فوت ہوا تو میں شدید غمزدہ ہوا، بالآخر میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کچھ نہیں سنا جس سے ہمیں فوت شدگان کے بارے میں سکون ملے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: تمہارے چھوٹے بچے جنت کی تتلیاں ہیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 145]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه مسلم، البر و الصلة، باب فضل من يموت له: 2635 و أحمد: 10325 - الصحيحة: 431»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 146 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَاحْتَسَبَهُمْ دَخَلَ الْجَنَّةَ“، قُلْنَا‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، وَاثْنَانِ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”وَاثْنَانِ“، قُلْتُ لِجَابِرٍ‏:‏ وَاللَّهِ، أَرَى لَوْ قُلْتُمْ وَاحِدٌ لَقَالَ‏.‏ قَالَ‏:‏ وَأَنَا أَظُنُّهُ وَاللَّهِ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس کے تین بچے فوت ہو گئے اور اس نے ثواب کی نیت سے صبر کیا، وہ جنت میں داخل ہو گیا۔ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جس کے دو فوت ہوئے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس کے دو فوت ہوئے (وہ بھی جنت میں جائے گا)، میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم! میرا گمان ہے کہ اگر تم کہتے کہ ایک والا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ضرور فرماتے کہ جس کا ایک فوت ہوا وہ بھی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میرا بھی یہی خیال ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 146]
تخریج الحدیث
«حسن: أخرجه أحمد: 14285 - صحيح الترغيب: 2006 - اتحاف السادة المتقين للزبيدي: 299/5 - الدر المنثور للسيوطي: 158/1 - كنز العمال: 6613»
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 147 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ طَلْقَ بْنَ مُعَاوِيَةَ، هُوَ جَدُّهُ، قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ فَقَالَتِ‏:‏ ادْعُ اللَّهَ لَهُ، فَقَدْ دَفَنْتُ ثَلاَثَةً، فَقَالَ‏:‏ ”احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک بچہ لے کر آئی اور عرض کیا: (اللہ کے رسول!) اس کے لیے دعا فرمائیں، میرے تین بچے فوت ہو چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو نے آگ سے بہت بڑی رکاوٹ بنا لی ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 147]
تخریج الحدیث
«صحيح: تقدم: 144»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 148 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ‏:‏ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا لاَ نَقْدِرُ عَلَيْكَ فِي مَجْلِسِكَ، فَوَاعِدْنَا يَوْمًا نَأْتِكَ فِيهِ، فَقَالَ‏:‏ ”مَوْعِدُكُنَّ بَيْتُ فُلاَنٍ“، فَجَاءَهُنَّ لِذَلِكَ الْوَعْدِ، وَكَانَ فِيمَا حَدَّثَهُنَّ‏:‏ ”مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ يَمُوتُ لَهَا ثَلاَثٌ مِنَ الْوَلَدِ، فَتَحْتَسِبَهُمْ، إِلاَّ دَخَلَتِ الْجَنَّةَ“، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ‏:‏ أَوِ اثْنَانِ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”أَوَِ اثْنَانِ“، كَانَ سُهَيْلٌ يَتَشَدَّدُ فِي الْحَدِيثِ وَيَحْفَظُ، وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يَقْدِرُ أَنْ يَكْتُبَ عِنْدَهُ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکتیں، لہٰذا ہمارے لیے ایک دن مقرر کر دیں جس میں ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: فلان کے گھر تمہارے ساتھ وعدہ ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حسب وعدہ ان کے پاس تشریف لائے اور انہیں جو وعظ فرمایا، اس میں یہ بات بھی تھی: تم میں سے جس عورت کے تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ ان پر ثواب کی امید رکھے، وہ ضرور جنت میں جائے گی۔ ایک عورت نے عرض کیا: اور دو بچے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دو کا بھی یہی حکم ہے۔ راوی حدیث سہیل بن ابی صالح حدیث کے لکھنے میں بڑی سختی کرتے تھے، اور کہتے تھے کہ اسے یاد رکھو۔ ان کے سامنے کوئی حدیث لکھ نہیں سکتا تھا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 148]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أحمد: 7357 - الصحيحة: 2680»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 149 الادب المفرد
حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ الأَنْصَارِيُّ قَالَ‏:‏ حَدَّثَتْنِي أُمُّ سُلَيْمٍ قَالَتْ‏:‏ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ‏:‏ ”يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلاَثَةُ أَوْلاَدٍ، إِلاَّ أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ“، قُلْتُ‏:‏ وَاثْنَانِ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”وَاثْنَانِ‏.“‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ام سلیم! جس کسی مسلمان میاں بیوی کے تین بچے فوت ہو جائیں، اللہ ان بچوں پر فضل و رحمت کرتے ہوئے ان کے والدین کو ضرور جنت میں داخل فرمائے گا۔ میں نے عرض کیا: اور دو بچے بھی (دخول جنت کا سبب بنیں گے؟) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دو بچوں کا بھی یہی حکم ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 149]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أحمد: 27113 و ابن أبى شيبة: 36/3 و إسحاق بن راهويه: 2162 و الطبراني فى الكبير: 126/25 - الروض النضير: 951»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 150 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ‏:‏ قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ‏:‏ عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، أَنَّ الْحَسَنَ حَدَّثَهُ بِوَاسِطَ، أَنَّ صَعْصَعَةَ بْنَ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا ذَرٍّ مُتَوَشِّحًا قِرْبَةً، قَالَ‏:‏ مَا لَكَ مِنَ الْوَلَدِ يَا أَبَا ذَرٍّ قَالَ‏:‏ أَلاَ أُحَدِّثُكَ‏؟‏ قُلْتُ‏:‏ بَلَى، قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ لَهُ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ، إِلاَّ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ أَعْتَقَ مُسْلِمًا إِلاَّ جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ عُضْوٍ مِنْهُ، فِكَاكَهُ لِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا صعصعہ بن معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ملے جو اس وقت ایک مشکیزہ بغل میں لٹکائے ہوئے تھے۔ میں نے عرض کیا: ابو ذر! آپ کے کتنے بچے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایک حدیث بیان کروں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں جو ابھی بلوغت کی عمر کو نہ پہنچے ہوں تو اللہ اسے ضرور جنت میں داخل فرمائے گا، ان بچوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور شفقت کی وجہ سے۔ اور جس مسلمان نے کسی مسلمان کو آزاد کیا اللہ تعالیٰ (غلام کے ہر عضو کے بدلے میں) اس کے ہر عضو کو دوزخ سے آزاد کر دے گا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 150]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه النسائي، الجنائز، باب من يتوفي له ثلاثًا: 1874 و أحمد: 21453 - الصحيحة: 567، 2260»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 151 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عُمَارَةَ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلاَثَةٌ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ وَإِيَّاهُمْ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ الْجَنَّةَ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس کے تین بچے بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے پہلے فوت ہوئے اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے اس شخص اور ان بچوں کو ضرور جنت میں داخل فرمائے گا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 151]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، الجنائز، باب ما قبل فى أولاد المسلمين: 1381، 1248 و النسائي: 1873»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح