بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اپنے ساتھی کے لیے مال و اولاد کی کثرت کی دعا کرنے کا بیان
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب اپنے ساتھی کے لیے مال و اولاد کی کثرت کی دعا کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 88 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ‏:‏ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، وَمَا هُوَ إِلاَّ أَنَا وَأُمِّي وَأُمُّ حَرَامٍ خَالَتِي، إِذْ دَخَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ لَنَا‏:‏ ”أَلاَ أُصَلِّي بِكُمْ‏؟“‏ وَذَاكَ فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلاَةٍ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ‏:‏ فَأَيْنَ جَعَلَ أَنَسًا مِنْهُ‏؟‏ فَقَالَ‏:‏ جَعَلَهُ عَنْ يَمِينِهِ‏؟‏ ثُمَّ صَلَّى بِنَا، ثُمَّ دَعَا لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ بِكُلِّ خَيْرٍ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فَقَالَتْ أُمِّي‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، خُوَيْدِمُكَ، ادْعُ اللَّهَ لَهُ، فَدَعَا لِي بِكُلِّ خَيْرٍ، كَانَ فِي آخِرِ دُعَائِهِ أَنْ قَالَ‏:‏ ”اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ‏.“‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں ایک روز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا (اور یہ اس دن کی بات ہے جب) صرف آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، میں، میری والدہ اور میری خالہ ام حرام تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم سے فرمایا: کیا میں تمہیں نماز نہ پڑھاؤں؟ اور یہ (فرض) نماز کا وقت نہیں تھا۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انس کو کہاں کھڑا کیا؟ انہوں نے کہا: اسے اپنی دائیں جانب کھڑا کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔ پھر ہم گھر والوں کے لیے دعا فرمائی (اور) دنیا و آخرت کی ہر بھلائی کی دعا کی۔ میری والدہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ کا ننھا خادم، اس کے لیے اللہ سے (خصوصی) دعا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے لیے (دنیا و آخرت کی) ہر بھلائی کی دعا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی دعا کے آخر میں فرمایا: اے اللہ! اسے کثرت سے مال اور اولاد عطا فرما اور اسے برکت سے نواز۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 88]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه مسلم، كتاب المساجد، باب جواز الجماعة فى النافلة: 660 و النسائي: 802 - الصحيحة: 140، 141، 2214»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح